cars

کونسی گاڑیاں سستی ہونگی اور کن پر ٹیکس لگے گا؟5سالہ آٹو پالیسی سامنے آگئی

حکومتِ پاکستان نے آئندہ پانچ برسوں2031-2026ے لیے نئی آٹو پالیسی کا جامع مسودہ (ڈرافٹ) تیار کر لیا ہےجسے آنے والے بجٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

اب ہر وہ گاڑی جو پیٹرول کے ساتھ بیٹری پر چلتی ہے، اسے یکساں رعایت نہیں ملے گی۔ حکومت نے ’نیو انرجی وہیکلز‘کے نام سے ایک بالکل نئی کیٹیگری متعارف کروائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عید الاضحیٰ :موٹر وے پر قربانی کے جانور لے جانے والی گاڑیوں پر مکمل پابندی

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی کیٹیگری کا سب سے بڑا فائدہ پی ایچ ای ویز (پلگ اِن ہائبرڈ) اور بی ای ویز (مکمل الیکٹرک) گاڑیوں کو پہنچے گا۔

اگر آپ کی گاڑی دیوار میں پلگ لگا کر چارج ہو سکتی ہے اور کم سے کم 50 کلومیٹر بجلی پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو حکومت اسے ’سبز اور ماحول دوست مانے گی، ورنہ نہیں۔

اس نئی درجہ بندی کا گاڑیوں کی قیمتوں پر بڑا اور براہِ راست اثر پڑنے جا رہا ہے۔ مسودے کے مطابق پلگ اِن ہائبرڈ پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے 1 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس کے باعث ان گاڑیوں کی قیمتوں میں 15 سے 16 فیصد تک بڑی کمی متوقع ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں ایم جی یا بی وائی ڈی جیسی کمپنیوں کی پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں سستی ہو سکتی ہیں۔

دوسری طرف وہ عام ہائبرڈ گاڑیاں جنہیں دیوار سے پلگ لگا کر چارج نہیں کیا جا سکتا (جیسے ٹویوٹا کرولا کراس وغیرہ)، انہیں اِس ’گرین کیٹیگری‘ سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی نئی آٹو پالیسی: کیا عام پاکستانی کا گاڑی خریدنے کا خواب پورا ہو پائے گا؟

اس طرح ان گاڑیوں پر 9 سے 18 فیصد تک سیلز ٹیکس برقرار رہے گا، جس سے ایسی گاڑیوں کی قیمتوں میں 5 سے 8 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ مڈل کلاس طبقے کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ آلٹو سے بھی چھوٹی اور سستی الیکٹرک فور ویلر (L6/L7 کیٹیگری) متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ عام موٹرسائیکل سوار محفوظ سواری پر شفٹ ہو سکیں۔