مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)محکمہ جنگلات مظفرآباد سرکل کے زیر اہتمام ہونیوالی نیلامی کو ناکام بنانے کیلئے خفیہ ہاتھ کام دکھا گئے ۔
آزادکشمیر کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے محکمہ جنگلات کو منڈیوں میں پکڑی گئی لکڑی بوسیدہ ہونے سے اربوں روپے کا نقصان ہونے لگا۔
ووڈ انڈسٹری مالکان 200 سے اڑھائی سو فٹ دیودار نہ ملنے پرمحکمہ جنگلات کے زیر اہتمام ہونے والی نیلامی کے سارے عمل کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر : مارکیٹوں، ہوٹلز، ریسٹورنٹس پرعائد پابندی ختم،نوٹیفیکیشن جاری
بچوں کیلئے چھت کا خواب دیکھنے والے شہری لکڑی کے حصول کیلئے در بہ در ، سول سوسائٹی کا وزیراعظم ، چیف جسٹس عدالت العالیہ ، چیف سیکرٹری آزادکشمیر سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ داران کیخلاف موثر کارروائی کرکے محکمہ جنگلات کے زیر اہتمام نیلامی میں مقامی افراد کو لکڑ کی فراہمی کیلئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا۔۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ پانچ سال سے محکمہ جنگلات کے ڈپوئوں میں پڑی لکڑی کی نیلامی نہ ہونے کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کی لکڑ بوسیدہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کانقصان ہو رہا ہے ۔۔
جب کہ گھریلو صارفین کو بھی مقامی سطح پر لکڑی کی فراہمی ناممکن ہو کر رہ گئی ہے ، یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ نیلامی کیلئے ڈپوئوں میں موجود لکڑ جسے برف پوش پہاڑوں سے نکاسی کر کے ڈپوئوں تک لانے کیلئے محکمہ جنگلات کوبھاری بھر کم اخراجات اٹھانا پڑے۔
جب کہ اب یہ لکڑ100 روپے فٹ میں بھی فروخت ہونے کے قابل نہیں رہی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ دیودار کے علاوہ کائل اور فرکی لکڑ برف باری اور بارش کے باعث بوسیدہ ہو کر گل سڑ رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کھولنےمیں مدد کی پیشکش کی، ٹرمپ کا دعویٰ
جس سے جہاں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ، وہاں مقامی لوگوں کیلئے بھی لکڑی کی فراہمی ناممکن ہو جاتی ہے ۔
اس سلسلے میں طویل عرصہ بعد محکمہ جنگلات کے زیر اہتمام یوٹی میں موجودلکڑی کی نیلامی سے گھریلو صارفین مستفید ہونے کے امکانات روشن ہوئے تھے کہ بااثر سیاسی شخصیات اور ووڈ انڈسٹری مالکان بلیک میلنگ پر اُتر آئے ۔۔
سول سوسائٹی نے وزیراعظم آزادکشمیر ، چیف جسٹس عدالت العالیہ ، چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے ڈپوئوں میں موجود اربوں روپے مالیت کی لکڑی کی نیلامی کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ آزادکشمیر کے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان سے بچایا جا سکے ۔



