وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور عہدِنو کا کرشماتی معمار،حویلی کی شان

تحریر: ظہیر ایوب راٹھور

حویلی کی سرزمین ہمیشہ غیرت، وفا، شعور اور قربانی کی علامت رہی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جس کے پہاڑوں میں استقامت کی صدائیں گونجتی ہیں، جس کی فضاؤں میں حریت کی خوشبو بسی ہوئی ہے اور جس کے باسیوں نے ہر دور میں اپنی مٹی سے محبت کو ایمان کا درجہ دیا ہے۔

مگر تاریخ کے بعض موڑ ایسے بھی آئے جب یہی خطہ سیاسی بے اعتنائی، انتظامی محرومی اور ترقیاتی جمود کا شکار دکھائی دیا۔ اقتدار کے ایوانوں میں حویلی کا نام تو لیا جاتا رہا مگر اس کی تقدیر بدلنے کے لیے وہ عملی سنجیدگی دکھائی نہ دی جس کی یہ سرزمین مستحق تھی۔

ایسے میں عوام کے دلوں میں یہ احساس جنم لینے لگا کہ شاید ان کے خواب ہمیشہ وعدوں کی دہلیز پر ہی دم توڑتے رہیں گے۔ مگر تاریخ کبھی مکمل خاموش نہیں رہتی۔ قوموں کی تقدیر میں بعض شخصیات ایسی بھی آتی ہیں جو محض اقتدار نہیں سنبھالتیں بلکہ عہد بدل دیتی ہیں۔ فیصل ممتاز راٹھور اسی بدلتے ہوئے عہد کی روشن علامت بن کر ابھرے ہیں۔

چھتیس برس بعد وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر حویلی کے ایک فرزند کا فائز ہونا صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ تاریخ کی ایک طویل بے قراری کا اختتام ہے۔ یہ صرف راٹھور خاندان کی نشاۃ ثانیہ نہیں بلکہ حویلی کی اجتماعی فتح ہے جس نے محرومیوں کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔

فیصل ممتاز راٹھور نے اقتدار کو ذاتی تشہیر یا مخالفین سے انتقام کا ذریعہ بنانے کی بجائے عوامی خدمت کی ایک نئی تعبیر عطا کی۔ ان کی سیاست نعروں کی سیاست نہیں بلکہ تعمیر، شعور اور عمل کی سیاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مختصر دورِ حکومت بھی عوامی احساسات پر گہرے نقوش چھوڑتا دکھائی دیتا ہےجو کہ گزشتہ کئی دھائیوں کے اقتدار پر بھاری ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ کسی بھی خطے کی ترقی کا اصل پیمانہ اس کی تعلیمی بیداری ہوتی ہے۔ اسی فلسفے کے تحت یونیورسٹی آف حویلی کا قیام ایک انقلاب آفرین قدم ثابت ہوا۔ یہ صرف ایک جامعہ نہیں بلکہ اُن ہزاروں نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر ہے جو وسائل کی کمی کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے تھے۔

دانش اسکول سسٹم نے غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے لیے امید کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ منصوبے دراصل اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں جس میں تعلیم کو محض ڈگری نہیں بلکہ معاشرتی تبدیلی کا ہتھیار سمجھا گیا ہے۔

اسی طرح تعلیمی پیکیج کی منظوری،چار ماڈل سائنس کالجز، بیسیوں اسکولوں کی اپگریڈیشن،گرڈ اسٹیشن، ہائیڈرل پاور پراجیکٹ خورشید آباد، پدھر،بھاٹا کوٹ، چرون، ریجی اور ہلاں پل، میونسپل کمیٹیوں کا قیام، پختہ شاہرات کی تعمیر اور دیہی ترقیاتی اسکیموں کا وسیع جال اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ یہ قیادت صرف تقریروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ زمین پر تبدیلی کے آثار پیدا کرنا جانتی ہے۔

ٹی ایچ کیوز، فرسٹ ایڈ سینٹرز، ڈی ایچ کیو ہسپتال کی اپگریڈیشن اور ممتاز آباد پولیس اسٹیشن جیسے منصوبے دراصل اُس دیرینہ محرومی کے خلاف عملی اعلانِ بغاوت ہیں جس نے برسوں اس خطے کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا۔

فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت کا ایک اور درخشاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ترقی کے مفہوم کو صرف اینٹ اور پتھر تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسان کو مرکزِ ترقی بنایا۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے قرضہ جات کی فراہمی دراصل انہیں بے روزگاری کے عذاب سے نکال کر خود اعتمادی اور خود انحصاری کی طرف لے جانے کی کوشش ہے۔

گھریلو خواتین کے لیے پولٹری پراجیکٹس اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ کوئی بھی معاشرہ اُس وقت تک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک خواتین کو ترقی کے دھارے میں شریک نہ کیا جائے۔ یہی سوچ کسی رہنما کو محض سیاستدان نہیں بلکہ ایک عہد ساز قائد بناتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات ، دو طرفہ تجارتی فروغ پر تفصیلی گفتگو

آج حویلی کے گاؤں، قصبے اور بستیاں اس تبدیلی کی گواہی دے رہی ہیں۔ عوام پہلی بار یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اقتدار ان سے دور کسی دیوار کے پیچھے نہیں بلکہ ان کی دہلیز تک آ چکا ہے۔ یہی احساسِ شمولیت کسی بھی ریاستی نظام کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب عوام اپنے وجود کو ریاستی ترجیحات میں شامل دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں اعتماد جنم لیتا ہے اور یہی اعتماد قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔

ماقبل آزادکشمیر کے اندر کسی بھی وزیراعظم کے دور اقتدار میں اتنا زیادہ کام نہیں ہوا جو فیصل ممتاز راٹھور نے چھ ماہ کے مختصر عرصے میں ممکن کر دکھایا ہے بلکہ تمام وزرائے اعظم کا عرصہ ملا کر بھی دیکھا جائے تو پھر بھی فیصل راٹھور اکیلے کا کام بھاری ہے۔

تعلیمی پیکج کی منظوری اور دیگر جملہ کاموں کے تناظر میں دیکھا جائے تو بلا مبالغہ فیصل راٹھور کا چھ ماہ کا دورِحکومت گزشتہ ربع صدی۔۔۔بلکہ نصف صدی۔۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔۔گزشتہ پون صدی کے اقتدار پر بھاری ہے۔اور یہ اللہ پاک کی خاص کرم نوازی سے ممکن ہوا ہے ورنہ اتنی قلیل مدت میں اتنے میگا پراجیکٹس کی منظوری کسی معجزے سے ہرگز کم نہیں ہے۔

مگر تاریخ کا اصول ہے کہ جب بھی کوئی قافلہ روشنی کی طرف بڑھتا ہے تو اندھیروں کے محافظ بے چین ہو جاتے ہیں۔ آج بھی کچھ عناصر ذاتی انا، محدود سیاسی مفادات اور وقتی حیثیت کے تحفظ کی خاطر اس اجتماعی کامیابی کو متنازع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

کردار کشی، افواہوں اور زہریلے پروپیگنڈے کی سیاست دراصل اُن لوگوں کا آخری ہتھیار ہوتی ہے جن کے دامن میں عوامی خدمت کی کوئی روشن مثال موجود نہیں ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شور وقتی ہوتا ہے جبکہ خدمت ہمیشہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ مخالف ہوائیں چراغوں کو ہلا تو سکتی ہیں مگر اُنہیں بجھا نہیں سکتیں جنہیں عوامی محبت اور اخلاص کی حرارت میسر ہو۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حویلی کے عوام خصوصاً نوجوان نسل وقتی اختلافات سے بلند ہو کر اجتماعی شعور کا مظاہرہ کرے۔ فیصل ممتاز راٹھور کی وزارتِ عظمیٰ کسی فرد کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے خطے کے سیاسی وقار، شناخت اور مستقبل کی امانت ہے۔

اگر اس موقع کو اتحاد، بصیرت ، ژرف بینی اور فکری بلوغت کے ساتھ محفوظ رکھا گیا تو حویلی نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاست میں اپنا کھویا ہوا مقام ہمیشہ کے لیے بحال کر لے گی بلکہ تعلیم، معیشت اور انتظامی استحکام کے میدان میں بھی ایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی : چوہدری محسن عزیز نے پراجیکٹ این زیڈ ویلی کا افتتاح کر دیا

یہ وقت نفرتوں کو ہوا دینے کا نہیں بلکہ تاریخ کے اس سنہری موقع کو سنبھالنے کا ہے۔ قدرت نے اتنے طویل عرصے کے بعد جو دروازہ کھولا ہے وہ محض اقتدار کا دروازہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کا دروازہ ہے۔

اگر اس لمحے کی قدر کی گئی تو آنے والے برسوں میں حویلی محرومی، پسماندگی اور سیاسی تنہائی کی علامت نہیں رہے گی بلکہ ترقی، وقار، شعور اور خوشحالی کے ایک نئے استعارے کے طور پر ابھرے گی۔ فیصل ممتاز راٹھور آج صرف ایک وزیراعظم نہیں بلکہ اُس نئے عہد کے معمار دکھائی دیتے ہیں جس میں حویلی کی پہچان محرومی نہیں بلکہ قیادت، ترقی اور روشن مستقبل ہو گی۔