وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چین کے 11 رکنی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد نے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔
چینی وفد کی قیادت آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ ٹیکنالوجی کے بانی، صدر اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈر چیان شیاؤ جون نے کی ۔
ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ، آزمودہ اور مضبوط تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور اب یہ شراکت داری اقتصادی تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے ۔
شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی غیر معمولی ترقی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان چین کے ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ وہ رواں ماہ کے اختتام پر اپنے مجوزہ دورۂ چین کے لیے پُرجوش ہیں، جس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اللہ تعالیٰ نے ’’معرکہ حق‘‘ میں ہمیں عظیم فتح سے سرخرو کیا : وزیر اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم نے آئی بی آئی گروپ کی جانب سے پاکستان میں “ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر” قائم کرنے کے فیصلے کو سراہا اور اسے ملک میں ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ۔
ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے گا بلکہ کاروباری تعاون اور جدت پر مبنی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا ۔
دوسری جانب چیان شیاؤ جون نے کہا کہ آئی بی آئی گروپ پاکستان میں ڈیجیٹل اصلاحات کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا قیام خطے میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو چین کی وسیع مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بیجنگ میں بڑی عالمی سفارتی بیٹھک: صدر شی جن پنگ کی ٹرمپ، پوٹن اور شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں متوقع
ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے ۔



