سپریم کورٹ؛ تین ہائیڈرل پاور پراجیکٹس کے ٹینڈر ز پراسیس کالعدم قرار

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سپریم کورٹ نے پاور ڈیوویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام اربوں روپے لاگتی تین ہائیڈرل پاور پراجیکٹس کے سول ورک کا ٹینڈر پراسیس کالعدم قرار دیتے ہوئے از سر نو بذریعہ ای۔ٹینڈرنگ کے احکامات جاری کر دئیے ہیں ۔

چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جناب جسٹس راجہ سعید اکرم خان ، سینیئر جج جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل فل کورٹ نے میاں عبدلجبار اینڈ کمپنی بنام ایم ایس کیڈی کریٹس ایسوسی ایٹ، رافع کنسٹرکشن کمپنی بنام ایم ایس کیڈی کریٹس ایسوسی ایٹ ، ایم ایس زیڈ کے ایسوسی ایٹ بنام ایڈوانس سلوشن منیجمنٹ ڈویلپرز ، ایم ایس سجاد احمد لون اینڈ کمپنی بنام کیڈی کریٹس ایسوسی ایٹ کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنادیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر ایجوکیشن پیکج؛ 3319 نئی آسامیوں کی مالیاتی منظوری

ٹھیکیدار کمپنیون نے درخواست میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا ، سپریم کورٹ نے فریقین کو سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کو ہدایت جاری کردیں ۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ متعلقہ ادارے شفاف اور ای۔ٹینڈرنگ یقینی بنائیں ۔واضح رہے کہ ایک ایک ارب روپے سے زائد لاگت کے منصوبہ جات ، نوشہرہ ہائیڈرل پاور پراجیکٹ ، پھلاوئی ہائیڈرل پاور پراجیکٹ اور خورشید آباد ہائیڈرل پراجیکٹ کے سول ورک کے ٹینڈر کال کئے تھے

دوران ٹینڈر پراسیس لڑائی جھگڑا بھی ہوا اور با اثر شخصیات نے کام اپنے نام کروانے کی راہ ہموار کروا لی تھی جس کے خلاف متاثرہ فریقین نے ہائی کورٹ رجوع کیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ کروز میزائل ‘فتح-4’ کا کامیاب تجربہ

ہائی کورٹ نے ٹینڈر پراسیس کو بحال رکھا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل یا دائر کی گئیں جن کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے از سر نو ٹینڈرنگ کا حکم دیدیا۔

کیس کی پیروی معروف قانون دان راجہ سجاد خان ایڈوکیٹ ، امجد علی خان ایڈوکیٹ ، بیرسٹر ہمایوں نواز ، سید ذولقرنین رضا نقوی ایڈوکیٹ اور ہارون ریاض مغل ایڈوکیٹ نے پیروی کی۔۔۔۔

Scroll to Top