حکومت کے “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” کے تحت ہزاروں بے گھر شہریوں کے لیے اپنے گھر کا خواب حقیقت بننے لگا ہے، جس کے لیے حکومت نے آسان قرضوں کی فراہمی کا عمل تیز کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 1845 افراد کو مجموعی طور پر 5 ارب روپے سے زائد مالیت کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ اسکیم ان لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو رہی ہے جو برسوں سے کرائے کے گھروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ حکومت نے آئندہ چار سالوں کے دوران ملک بھر میں 5 لاکھ رہائشی مکانات کی تعمیر کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ کم اور متوسط آمدنی والے افراد کو چھت میسر آ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اپنا گھر پروگرام: اوورسیز پاکستانیوں اور نجی شعبے کے لیے بڑی خوشخبری
اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت رعایتی شرح سود پر قرضے فراہم کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک اس پروگرام کے لیے 25 ہزار 304 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے 8 ہزار 990 درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ منظور شدہ قرضوں کی مجموعی مالیت اب تک 37 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو عوام کی اس اسکیم میں گہری دلچسپی کا ثبوت ہے۔
سبسڈی اور مالیاتی ڈھانچہ:
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس، سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری قانون نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ ایک مکمل طور پر سبسڈی پر مبنی ہاؤسنگ فنانس اسکیم ہے۔ اس کے تحت پہلی بار گھر خریدنے والوں کو ایک کروڑ روپے تک کا قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی کم ترین شرح سود ہے جو محض 5 فیصد رکھی گئی ہے، جبکہ واپسی کے لیے 20 سال کی طویل مدت دی گئی ہے۔ قرض کی فراہمی میں 90:10 کا تناسب رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو مالی معاونت مل سکے۔
مزید پڑھیں: انوکھا احتجاج،شہری گھر سے چارپائی لاکر بینک کے آگے بیٹھ گیا
قوانین میں اصلاحات کی ضرورت:
اجلاس کے دوران وزارت ہاؤسنگ نے ہاؤسنگ فنانس کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قانونی اصلاحات پر زور دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فورکلوژر اور ریکوری کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ بینکوں کے خدشات دور ہوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ کمیٹی اراکین نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے شعبے کی ترقی کے لیے سازگار ماحول اور مؤثر ریکوری قوانین وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ مالیاتی ادارے اس شعبے میں بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کریں۔
وفاقی حکومت نے ”اپنا گھر پروگرام“ کے تحت شہریوں کو گھر بنانے یا خریدنے کے لیے رعایتی قرضوں کے حصول کا انتہائی سادہ اور شفاف طریقہ کار متعارف کروا دیا ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ اور اہلیت
حکام کے مطابق اپنا گھر اسکیم سے مستفید ہونے کے خواہشمند شہریوں کو مقررہ سرکاری پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہلیت کے بنیادی معیار پر پورا اترتے ہوں، جس میں درست کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کا ہونا اور کسی بھی بینک کا مقروض نہ ہونا لازمی شرائط میں شامل ہے۔
آن لائن سسٹم تک رسائی کے بعد صارفین کو اپنی پسند کے قرض کے زمرے کا انتخاب کرنا ہوگا، جس میں ذاتی تفصیلات، آمدنی کی معلومات اور جائیداد کی ضروریات سے متعلق فارم پُر کرنا ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت ضرورت اور اہلیت کی بنیاد پر 25 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ (10 ملین) روپے تک کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
دستاویزات اور شفاف پروسیسنگ
درخواست گزاروں کو ڈیجیٹل درخواست کے ہمراہ شناختی تصدیق اور مالیاتی ریکارڈ سمیت دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مرحلے پر کوئی درخواست فیس یا پیشگی ادائیگی وصول نہیں کی جائے گی۔ درخواست جمع ہونے کے بعد کمرشل بینک، اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی جیسے مالیاتی ادارے ان کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ سسٹم کو فوری پروسیسنگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے تحت درخواست جمع کروانے کے تقریباً ایک ماہ کے اندر حتمی منظوری متوقع ہے۔ کامیاب امیدواروں کو رعایتی ڈھانچے کے تحت طویل مدتی ادائیگی کے شیڈول پر فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ پروگرام میں مکمل شفافیت برقرار رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن مشترکہ طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔



