سابق وزیراعظم نوازشریف کا آزادکشمیر الیکشن میں خود اترنے کا فیصلہ

لاہور(کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے مسلم لیگ ن پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔

صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) میاں نوازشریف نے امیدواروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کو5 سال میں جتنانقصان پہنچا بحال کرنے میں بہت عرصہ لگے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں امیدواروں کیلئے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ کرلیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی آزادکشمیرکی بڑی وکٹ گرگئی، چوہدری رشید مسلم لیگ ن میں شامل

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا آزادکشمیر مین الیکشن مہم کے دوران آزاد کشمیر جانے کا فیصلہ کیا ۔نوازشریف کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوگی۔

نواز شریف کا جون کے وسط میں آزاد کشمیر جانے کا امکان ہے اور ان کے ساتھ مریم نواز بھی جاسکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اور مریم نواز کو بطور وزیراعلیٰ، قانون کے مطابق کشمیر میں الیکشن مہم میں شرکت کی ہدایت کی ہے۔

شہباز شریف اور مریم نواز کے آزاد کشمیر میں دو سے تین جلسے متوقع ہیں۔ پارلیمانی بورڈ اجلاس میں نوازشریف نے آزادجموں وکشمیر کے45 انتخابی حلقوں سے 206سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کرلئے ۔

نوازشریف نے ہر امیدوار کو دو سے تین منٹ ہی گفتگو کیلئے دیئے جبکہ پارٹی صدر نواز شریف بورڈ ارکان کی مشاورت سے دو سے تین روز میں حتمی امیدواروں کا فیصلہ کریں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف اور پارلیمانی بورڈ نے امیدواروں سے پارٹی سے وابستگی اور عوامی مقبولیت کے بارے میں سوالات کئے اور آزاد کشمیر الیکشن پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما امیر مقام کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سابق چیف الیکشن کمشنر عبدالرشید سلہریا کو 68لاکھ سے زائدالائونسزجاری، 2 ملازمین بھی تفویض

آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے نواز شریف کے سامنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران نظریہ پاکستان اور نظریہ تحریک آزادی کو شدید نقصان پہنچا، ہماری تحریک آزادی کو 5 سال میں جتنا نقصان پہنچا اسے واپس لانے میں بہت عرصہ لگے گا۔

امیدواروں نے نوازشریف سے گفتگو کے دوران بتایا کہ 5 سال میں آزاد کشمیر میں جو کھیل کھیلا وہ افسوس ناک ہے، کشمیریوں نے آزادی کیلیے اپنی جان اور اپنے بچوں کو شہید کروا کر لاشیں اٹھائیں۔

مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جوکشمیریوں کیحقیقی نظریہ اور شہدا کی وارث ہے۔کشمیری امیدواروں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا جیتنا ناگزیر ہے وگرنہ آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:باغ سے ڈھلی تک تاریخی پاکستان زندہ بادریلی، وزیراعظم شرکت کرینگے، سردار قمرالزمان خان

نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں خود کشمیری ہوں اور کشمیریوں سے محبت میرے خون میں شامل ہے، آزاد کشمیر کے الیکشن میں خود آکر اپنے امیدواروں کیلئے ووٹ مانگوں گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوگی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کے 45 انتخابی حلقوں سے 206 سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کئے گئے۔

پارٹی صدر نواز شریف نے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ امیدواروں کے انٹرویوز کیے اور نواز شریف بورڈ ارکان کی مشاورت سے حتمی امیدواروں کا فیصلہ کریں گے، انٹرویوز میں کامیاب امیدواروں کو 30 روز میں پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے گا۔

پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، محمد صفدر اور برجیس طاہر شامل ہیں۔ شاہ غلام قادر، راجہ محمد فاروق حیدر، مشتاق منہاس، چوہدری محمد سعید اور چوہدری طارق فاروق بھی بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں۔ اجلاس میں نجیب نقی خان، افتخار گیلانی اور چوہدری عبدالرحمان بھی شریک ہوئے۔

Scroll to Top