مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) صدر آزااد جموں و کشمیر نے سابق چیف الیکشن کمشنر کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے 6.832 ملین روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دیدی۔
محکمہ قانون کے نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن کمیشن کے میزانیہ 2025-26 میں سپیشل جوڈیشل الاؤنس کیلئے 5.002 ملین ،کرایہ مکان الاؤنس کیلئے 1.830ملین روپے اضافی فراہم کئے جائیں گے۔
یہ اخراجات قواعد کے تحت عمل میں لائے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے سابق چیف الیکشن کمشنر ر جسٹس عبدالرشید کو 68 لاکھ 32 ہزار کو اضافی الاونسسز کی مد میں مل گئے۔۔
سابق چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کے دو ملازم بھی رکھ لئے ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ملازمین کو واپس الیکشن کمیشن میں حاضر نہیں ہونے دیئے جارہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس نئی عمارت میں بلائے جانے کا امکان
آزاد کشمیر میں اشرافیہ کی آسائشوںں کے حوالے سے سلسلہ نوازشات جاری ہیں ۔ سابق چیف الیکشن کمشنر عبدالرشید سلہریا ایک سال قبل اپنی مدت کے اختتام پر مراعات لے کر رخصت ہو گئے تھے کو اضافی الاونسسز کی مد میں مزید 68 لاکھ 32 ہزار کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔
28 اپریل 2026 کو سیکرٹریٹ قانون انصاف کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر وقت کو سپیشل جوڈیشنل الاونس اور کرایہ مکان الاونس میں 68 لاکھ 32 ہزار روپے اضافی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے
اگرچہ یہ ادائیگی قانون کے مطابق قرار دی جارہی ہے لیکن سابق چیف الیکشن کمشنر غیر قانونی طور پر الیکشن کمیشن کے دو ملازمین کو اپنے ساتھ ڈیوٹی پر مامور رکھا ہوا ہے جن میں ایک کک ایک ڈرائیور شامل ہیں۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: سمگلنگ کا انوکھا واقعہ،آئل ٹینکر کے خفیہ خانوں سے قیمتی لکڑی برآمد
ان ملازمین کو سابق چیف الیکشن کمشنر کو اپنی مدت کے اختتام پر واپس الیکشن کمیشن حاضر کر دینا چاہئے تھا لیکن ان کو زبر دستی اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے
جو الیکشن کمیشن کے ملازم ہیں اور الیکشن کمیشن سے تنخواہ مراعات حاصل کرتے ہیں سابق چیف الیکشن کمشنر کو بطور سابق جسٹس ہائی کورٹ ڈرائیور کک خدمت گار کی سہولت حاصل ہے لیکن انہوں نے غیر قانونی طور پر الیکشن کمیشن کے کک ڈرائیور کو بھی روک رکھا ہے۔




