پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی چین میں کمیشننگ کی تقریب ہوئی، صدر مملکت آصف علی زرداری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔
صدر مملکت نے کہا کہ آبدوز ہنگور کی کمیشننگ پاک بحریہ کی جدت کے سفر میں ایک تاریخی سنگ میل ہے، پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع، بحری مفادات کے تحفظ اور اقتصادی راہداریوں کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نیوی کی ایک اور بڑی کامیابی، ہنگور کلاس چوتھی آبدوز غازی لانچ
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ اہم بحری راستوں کا تعطل عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
یہ آبدوزیں جارحیت کو روکنے اور بحیرہ عرب میں اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
نیول چیف کا کہنا تھا کہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں سابقہ ہنگور دوسری جنگ عظیم کے بعدکسی بحری جہاز کو تباہ کرنے والی پہلی آبدوز تھی۔
ہنگورکلاس آبدوزیں جدید ترین ائیر انڈیپنڈنٹ پروپلشن ٹیکنالوجی، سونار سسٹمز، اسٹیلتھ ڈیزائن اور زیر آب طویل آپریشنز کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیول اکیڈمی ،124ویں مڈشپ مین اور 32ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور گہری دوستی کا ایک نیا باب ہے۔
وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پوری قوم اور پاک بحریہ کو اس تاریخی سنگ میل کے حصول پر مبارک باد پیش کی ہے۔
ہنگور آبدوز کیا ہے اور پاکستان کیلئےیہ کتنی اہم ہے؟
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جدید آبدوزیں دفاعی اور جارحانہ دونوں نوعیت کے کردار ادا کر سکتی ہیں، ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون کا اہم منصوبہ ہیں جس میں پاکستان مجموعی طور پر آٹھ آبدوزیں حاصل کرے گاجن میں سے چار چین میں تیار ہوں گی جبکہ چار پاکستان میں بنائی جائیں گی۔
منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے، جس کے تحت پاکستان کو نہ صرف آبدوزیں ملیں گی بلکہ انہیں بنانے اور مستقبل میں اپ گریڈ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہوگی۔
ہنگور کلاس آبدوزیں آبدوزیں دفاعی اور جارحانہ دونوں نوعیت کے کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ دشمن کی بحری نقل و حرکت کی نگرانی، حساس سمندری راستوں پر موجودگی اور انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
یہ آبدوزیں جدید ہتھیاروں، سینسرز اور جدید نظام سے لیس ہوں گی۔ ان آبدوزوں میں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم موجود ہوگا، جس کی مدد سے آبدوز زیادہ عرصے تک پانی کے اندر رہ سکتی ہے۔
ہنگور نام کیوں رکھا گیا؟
ہنگور کلاس کا نام پاکستان نیوی کی 1971 کی جنگ میں خدمات انجام دینے والی مشہور آبدوز ’پی این ایس ہنگور‘ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
پی این ایس ہنگور نے جنگ کے دوران انڈین بحری جہاز ’کھکری‘ کو نشانہ بنایا تھاجس کے باعث یہ نام پاکستان نیوی کی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
تجریہ کاروں کے مطابق یہ آبدوزیں آج کے لیے نہیں، آنے والے برسوں کے لیے حاصل کی جا رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی بحری صلاحیت، دفاعی تیاری اور مستقبل کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔




