افغان سرحد

جنوبی وزیرستان، افغانستان کی سول آبادی پر گولہ باری،8زخمی، نقصانات کی تفصیلات جاری

جنوبی وزیرستان لوئر کے سرحدی علاقے انگور اڈا میں 26 اور 29 اپریل 2026 کو افغان فورسز کی جانب سے سول آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں افسوسناک جانی اور مالی نقصانات ہوئے۔

ان واقعات کے دوران مختلف گھر تباہ ہوئے اور 8افراد جن میں بچے اور خواتین شامل تھیںشدید زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی اشتعال انگیزی: انگور اڈہ میں شہری آبادی پر فائرنگ، پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی

ضلعی انتظامیہ نے ابتدائی علاج کے بعد ان زخمی افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں بہتر علاج اور معالجے کے لیے منتقل کر دیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں کئی رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا، جس کے باعث متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق زخمی ہونے والوں میں20سالہ رحیم اللہ ولد راسم( گاؤں موسہ لگا)،02سالہ زبیر ہ بی بی ( زالول نخیل)،28سالہ بی بی حوا،31سالہ مسلمہ بی بی،سناب تین سالہ بچی (گاؤں موسہ نکا)،10سالہ سپتابی بی،32سالہ ارشاد ولد کریم خان اور روبیہ بی بی شامل ہیں، جنہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مقامی قبائلی مشران اور عوام نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کو فوری طور پر روکا جائے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ علاقے کے امن کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے افغانستان میں بھی مقبولیت کے ڈنکے بج گئے

ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان لوئر نے صورتحال کی مسلسل نگرانی کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

حکام نے متاثرین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top