جنوبی وزیرستان : جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغانستان کی جانب سے ایک بار پھر شدید اشتعال انگیزی کی گئی ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 عام شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر وانا ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد سرحدی علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی آبادی میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سرحد پار سے دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنایا گیا، جس کے ردِعمل میں افغان حدود سے شہری آبادی کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج نے اس اشتعال انگیزی پر فوری اور انتہائی مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد افغان سکیورٹی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان :افغان طالبان کی پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری، 2 خواتین سمیت 3افراد شدید زخمی
پاک فوج کی بروقت اور بھرپور کارروائی کے بعد فی الوقت صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا فوری تدارک کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور سرحدی پٹی پر مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے۔ کسی بھی جارحیت کی صورت میں دشمن کو دندان شکن جواب دیا جائے گا۔




