امریکی کمپنی نے پاکستان کے ایئرپورٹس میں مجرمان اور سرحد پار سے خطرات کی نشاندہی کیلئے جدید نظام کی تنصیب کے حوالے سے 2.4 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس پیش کش کی حمایت کی ہے۔
آفیشل دستاویزات کے مطابق پاکستان میں امریکی ناظم الامورنتالی بیکر نے حال ہی میں امریکی کمپنی سیکیوریپورٹ کی جانب سے ایڈوانسڈ پسنجر انفارمیشن (اے پی آئی) اور پسنجر نیم ریکارڈ (پی این آر) کی صلاحیت کا حامل سکیورٹی سسٹم کی تنصیب کے لیے سرمایہ کاری کی حمایت کی اور پاکستانی حکام پر اس تجویز پر غور کرنے کے لیے زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں:اٹلس ہونڈا کا پاکستان میں 5.3 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان
اس حوالے سے دستیاب تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجوزہ نظام ایئرلائن سے حکومت تک ڈیٹا کی بحفاظت منتقلی کا ضامن ہے اور پاکستان کو پورے ڈیٹا کی مکمل ملکیت اور کنٹرول برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ 24 گھنٹے معاونت اور تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
اگر پاکستان امریکا کی اس پیش کش کو قبول کرتا ہے تو اس نظام کی تنصیب میں فاسٹ ٹریک کی بھی مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے حال ہی میں اسی طرح کا نظام نصب کرنے کی کوشش متنازع ہوگئی تھی کیونکہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع نے اس کی شفافیت کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔
امریکی کمپنی سیکیوریپورٹ نے اپنے سسٹم کی تنصیب کے حوالے سے تمام ابتدائی سرمایہ کاری فراہم کرنے کی تجویز دی ہے اور پیش کش کی ہے کہ وہ معاہدے کی مدت کے دوران حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مسافروں پر سکیورٹی سرچارج ماڈل کے ذریعے اپنی لاگت وصول کرے گا۔
تجویز دی گئی ہے کہ کمپنی نے مجوزہ 25 سالہ معاہدے کے تحت 2.4 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے، کمپنی پاکستان میں ایک ذیلی ادارہ بھی قائم کریگی جس کے ذریعے وہ ان جدید ٹیکنالوجی میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو تربیت دے گی۔
امریکی ناظم الامور نتالی بیکر نے وزارت دفاع کے ساتھ مواصلات میں سیکیوریپورٹ کی سرمایہ کاری کے لیے تجویز کی امریکی حکومت کی جانب سے حمایت کا اظہار کیا اور امریکی کمپنی کی جانب سے اے پی آئی اور پی این آر سسٹم کی تنصیب کی تجویز کی حمایت کی۔
پیش کش کے مطابق اے پی آئی اور پی این آر سسٹم وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے ماتحت ہوگا جو حکومت کو بائیو میٹرک کا حامل بارڈر مینجمنٹ منصوے سے جوڑے گا۔
یاد رہے کہ پی اے اے نے 2020 میں ای-گیٹس، اے پی آئی اور پی این آر سسٹمز کی تنصیب کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں سے تجاویز طلب کی تھیں، 2024 میں دوبارہ تجربہ کار بین الاقوامی کمپنیوں سے پیش کش کے لیے نئی ای او آئیز جاری کردی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:گوادر میں سعودی عرب کی بڑی سرمایہ کاری: 10 ارب ڈالر سے آئل ریفائنری کے قیام کا امکان
رواں برس جنوری میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع نے آٹومیٹڈ پروجیکٹ پر ایئرپورٹ حکام سے بریفنگ لی تھی۔
حکام کی جانب سے سینیٹ کی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ مجوزہ نظام کے تحت ای-گیٹس بائیومیٹرک پاسپورٹ اسکینرز اور چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا اور اس نظام کی تنصیب کا منصوبہ ہے، جس سے ہر مسافرکی 3 سے 5 منٹ کی امیگریشن کا وقت کم ہو کر 45 سیکنڈ ہوجائے گا۔




