ہٹیاں بالا(کشمیر ڈیجیٹل/عمر بھٹی راجپوت)بھارتی حکومت نے سچائی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آزاد کشمیر کے سینئر صحافیوں کیخلاف ڈیجیٹل کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا کے سابق صدر اور ایکسپریس نیوز کے نمائندے اعجاز احمد میر اور ڈسٹرکٹ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری اور پاکستان کے نامور نیوز چینلز ’24 نیوز‘ و ’ڈسکور پاکستان‘ کے نمائندے مبارک حسین اعوان کی خبروں کو بھی بھارتی حکومت کی ایما پر فیس بک نے بھارت بھر میں بلاک کر دیا ہے۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریڈزون،زیروپوائنٹ تک ایکسپریس وے ٹریفک کیلئے بند، ایڈوائزری جاری
تفصیلات کے مطابق بھارتی اداروں کی جانب سے فیس بک انتظامیہ کو بھیجی گئی ایک قانونی درخواست (Legal Request) کے ذریعے مبارک حسین اعوان کے سوشل میڈیا مواد تک بھارت میں رسائی روک دی گئی ہے۔۔
یہ اقدام اس سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت پہلے اعجاز احمد میر جیسے تجربہ کار صحافی کی آواز کو بھارتی حدود میں بند کیا گیا تاکہ مقبوضہ کشمیر اور خطے کے حوالے سے حقائق بھارتی عوام تک نہ پہنچ سکیں ۔۔
ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا کے جنرل سیکرٹری مبارک حسین اعوان کی صحافتی خدمات اور پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ان کی وابستگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار
تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے ان کی آواز دبانے کی یہ کوشش بین الاقوامی سطح پر آزادیِ صحافت کے علمبردار اداروںکیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔۔
صحافتی حلقوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعجاز احمد میر اور مبارک حسین اعوان جیسے نڈر صحافیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا اعتراف ہے کہ بھارت سچائی کا سامنا کرنے سے قاصر ہے ۔۔
مبارک حسین اعوان نے اس فیصلے کے خلاف فیس بک کے سپورٹ فورم پر باقاعدہ اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس غیر قانونی سنسر شپ کو چیلنج کیا جا سکے۔۔۔




