اثرات

پاکستان فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر پر بُرے اثرات مرتب

پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کیلئے فضائی حدود کی بندش کے اثرات بھارتی ایوی ایشن سیکٹر اور معیشت پر محسوس کیے جا رہے ہیں ۔

سکیورٹی ذرائع اور متعلقہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارت سے یورپ اور امریکہ جانے والی پروازوں کو متبادل اور طویل فضائی راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں ۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں نہ صرف پروازوں کا دورانیہ بڑھ گیا ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات اور مجموعی آپریشنل لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ بعض پروازوں کو دورانِ سفر دیگر ممالک میں ری فیولنگ بھی کرنا پڑ رہی ہے، جس سے لاجسٹک پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں ۔

ماہرین کے مطابق طویل روٹس اور اضافی اخراجات کے باعث بھارتی ایئرلائنز پر مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اندازوں کے مطابق یہ نقصان سالانہ کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی جہازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع،نوٹم جاری

کچھ تخمینوں میں یہ رقم تقریباً 800 ملین ڈالر سالانہ تک بتائی جا رہی ہے، تاہم اس کا انحصار پروازوں کی تعداد، روٹس اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر ہوتا ہے ۔

فضائی ماہرین نے کہا ہے کہ طویل فضائی راستوں کی وجہ سے نہ صرف اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ شیڈولنگ اور پروازوں کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں ایئرلائنز کو اپنے نیٹ ورک میں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں اور بعض روٹس پر دوبارہ غور بھی کیا جا سکتا ہے ۔

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے اس اقدام کو خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں ایک جوابی پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔

حکام کے مطابق فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کے فیصلے سے صورتحال پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ان ایئرلائنز کیلئےجو مستقل طور پر اس روٹ پر انحصار کرتی ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا بحران کا شکار

واضح رہے کہ اپریل 2025 سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کی بندش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث خطے کی فضائی ٹریفک پیٹرنز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں ۔

Scroll to Top