بمبئی (کشمیر ڈیجیٹل)پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ائیر لائن ایئر انڈیا کو شدید مالی بحران سے دوچار کردیا ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان کی پابندیوں کے باعث ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ہوگیا
جبکہ فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے بھارتی ائیر لائن کو سالانہ ساڑھے 45 کروڑ ڈالر تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکا، کینیڈا اور یورپ کیلئے ایئر انڈیا کی پروازیں طویل روٹس اختیار کرنے پر مجبور ہیں جس سے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
نقصان کم کرنے کیلئے ایئر انڈیا نے چین سے سنکیانگ کی فضائی حدود کھولنے کی درخواست کی ہے اور اس سلسلے میں لابنگ بھی شروع کردی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سنٹرل کرم میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 22 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک
پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث ’ایئر انڈیا‘ کی مغربی ممالک کے لیے پروازوں میں نہ صرف ایندھن کا خرچہ بڑھ گیا بلکہ دورانیہ بھی تقریباً 3 گھنٹے طویل ہوگیا جس کے بعد فضائی کمپنی بھارتی حکومت کو آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ چینی فضائی حدود استعمال کی جاسکے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایئر انڈیا بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ چین کو قائل کرے کہ وہ سنکیانگ کی حساس عسکری فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے تاکہ فضائی راستے کم ہوسکیں
کیونکہ پاکستانی فضائی حدود پر بھارتی ایئرلائنز کی پروازوں پر پابندی کے باعث مالی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ غیر معمولی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف چند ہفتے قبل بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں پانچ سال کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہوئیں، جو دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپ کے سبب بند کی گئی تھیں۔
تاہم یہ کوشش اس وجہ سے متاثر ہو رہی ہے کہ اپریل کے آخر میں سفارتی کشیدگی بڑھنے کے بعد سے پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے۔
دستاویز کے مطابق ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور کچھ طویل پروازوں کے سفر کے دورانیے میں 3 گھنٹے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت ایئر انڈیا کی اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے کہ وہ چین سے سفارتی طور پر بات کرے تاکہ متبادل راستے کی اجازت دی جاسکے
ہنگامی صورت میں سنکیانگ کے ہوٹن، کاشغر اور ارمچی ایئرپورٹس تک رسائی ممکن ہو جس کا مقصد امریکا، کینیڈا اور یورپ کے لیے پروازوں کا دورانیہ کم کرنا ہے۔
دستاویز میں مزید کہا گیا کہ ایئر انڈیا کا طویل فضائی نیٹ ورک شدید آپریشنل اور مالی دباؤ کا شکار ہے، ہوٹن روٹ کی منظوری حاصل کرنا اسٹریٹجک آپشن ثابت ہوگا۔
ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کی ملکیت رکھنے والی ایئر انڈیا نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے ائیرانڈیا کے منافع میں ساڑھے 45 ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔




