مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) ایم ایل اے و مشیر حکومت محترمہ نثاراں عباسی نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی میں اضافے کیلئے ’’آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین (سولہویں ترمیم) ایکٹ 2025 ‘‘کے عنوان سے پرائیویٹ ممبر بل پیش کر دیا ہے۔
محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور نے 23 اپریل 2026 کو یہ بل ضروری مشاورت اور مالی اثرات کے جائزے کے لیے سیکرٹری الیکشن کمیشن، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ اور ڈپٹی سیکرٹری کشمیر کونسل کو بھجوا دیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار امان کا 29 ستمبر کو آزاد کشمیر اسمبلی اور تمام پارلیمنٹیرینز کو آگ لگانے کا اعلان
بل کے خدوخال :
1. آئین کے آرٹیکل 21 میں ترمیم کے ذریعے ہر حلقے سے کم از کم ایک خاتون کی نمائندگی یقینی بنائی جائے گی۔
2. آرٹیکل 22 میں ترمیم کے بعد اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستیں 33 فیصد ہو جائیگی محترمہ نثاراں عباسی کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں خواتین آبادی کا 50 فیصد سے زائد حصہ ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر اسمبلی میں2017 سے سیاسی اشرافیہ کیلئے 7 مرتبہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ: سابق صدور، وزرائے اعظم اور اراکین اسمبلی کو تاحیات مراعات مل گئیں
پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں اور گلگت بلتستان میں خواتین کی نشستوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی خواتین کو فیصلہ سازی میں برابر کا حصہ دینے کے لیے یہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر،مہاجر ممبران اسمبلی اکی ایڈجسٹمنٹ کیلئے پی اے سی کے بعد قائمہ کمیٹیوں کی بھی تشکیل
یہ بل قانون سازی کے اگلے مراحل طے کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کی رائے کے لیے بھجوایا گیا ہے۔




