اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز اب تک نہ ہو سکا ہے اور جنگ بندی کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن بھی قریب آ چکی ہے جس وجہ سے اب خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو گیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد:قبضہ مافیا کا گھر پر قبضے کی کوشش ، شوہر اورخاتون خانہ پر تشدد
عالمی طور پر اس اضافے کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 10 سے 15 روپے تک اضافہ متوقع ہے جبکہ مذاکرات موخر ہونے کی صورت میں یہ اضافہ 30 روپے فی لیٹر یا اس سے زائد بھی ہو سکتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا انتظار ہے،عطاء تارڑ
گزشتہ دنوں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک کم ہو چکی تھی جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہونے کے باعث اب اس کی قیمت میں 5 ڈالر سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے
اس وقت قیمت 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل تک کم ہونے کے بعد اب بڑھ ہو کر 86 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت کی ایک اور سازش بے نقاب،بریکس نیوز کا جعلی اکاؤنٹ سامنے آگیا
واضح رہے کہ پاکستان کی بڑی حد تک تیل کی درآمدات خلیجی ممالک سے وابستہ ہیں، جو اسی راستے سے آتی ہیں، جس کے باعث ملک اس جغرافیائی دباؤ سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معمولی جغرافیائی کشیدگی بھی پاکستان جیسے درآمدی معیشتوں کے لیے بڑے معاشی چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔




