اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں بینکوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے مہنگے ایس ایم ایس چارجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ایس ایم ایس سروس کے مختلف ماڈلز رائج ہیں، تاہم بینک صارفین سے 15 میسجز کے عوض ماہانہ 180 سے 325 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ بعض کیسز میں ایک ایس ایم ایس کی قیمت 12 روپے تک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بینک آف آزادکشمیر کے صدر کی عدم تعیناتی، حکومت کو دو ہفتے کی مہلت
انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹیلی کام کمپنیاں خود یہ سروس محض ایک سے دو روپے فی ایس ایم ایس میں فراہم کرتی ہیں جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور زرعی ترقیاتی بینک کی ایس ایم ایس سروس نسبتاً سستی ہے۔
ان کے مطابق بینکوں نے ایگریگیٹرز رکھے ہوئے ہیں جو اضافی چارجز وصول کرتے ہیں جس سے لاگت بڑھ جاتی ہے۔
اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے سوال اٹھایا کہ بینک صارفین سے اتنی زیادہ رقم کیوں وصول کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر ٹیلی کام حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک براہ راست ان کے صارف نہیں بلکہ ایگریگیٹرز کے ذریعے سروس حاصل کرتے ہیں اور یہ کمپنیاں ایگریگیٹرز کو تقریباً 2 روپے فی ایس ایم ایس کے حساب سے سروس فراہم کرتی ہیں۔
ٹیلی کام حکام کا مزید کہنا تھا کہ بینک صارفین کو مالی لین دین سے متعلق فوری معلومات درکار ہوتی ہیں اسی وجہ سے ان پیغامات کی اہمیت اور قیمت زیادہ رکھی جاتی ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے شکایت کی کہ ٹیلی کام کمپنیوں نے کمیٹی کو مکمل معلومات فراہم نہیں کیں جس پر حکام نے جواب دیا کہ تمام تفصیلات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو جمع کرا دی گئی ہیں۔
اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ بینک سالانہ 25 ارب 60 کروڑ روپے ایگریگیٹرز کو ادا کرتے ہیں جبکہ صارفین سے تقریباً 18 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:موبائل سمز اور بینک اکاؤنٹس بلاک ہونے کا خدشہ ، نادرا کا انتباہ جاری
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے نمائندے کے مطابق اگر بینک خود یہ سروس فراہم کریں تو اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں، اسی لیے ایگریگیٹرز کی خدمات لی جاتی ہیں۔
کمیٹی نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات پر غور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔




