مزدور

مردان کان حادثہ ،مردہ سمجھا جانے والا مزدور 17 دن بعد زندہ مل گیا

خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں ماربل کان کے ایک ہولناک حادثے کے 17 دن بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کر دیا ،جس مزدور کو مردہ سمجھ کر دفنا دیا گیا تھا، وہ زندہ نکل آیا ۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے رستم میں 31 مارچ کو ماربل کی کان میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں اچانک پہاڑ کا ایک بڑا حصہ کان میں کام کرنے والے مزدوروں پر آ گرا۔

اس حادثے کے وقت کان میں 12 مزدور موجود تھے جن میں سے نو جاں بحق ہو گئے جبکہ دو زخمی حالت میں نکال لیے گئے ۔

حادثے کے بعد ایک مزدور لاپتہ قرار دیا گیا اور اس کی تلاش کئی دنوں تک جاری رہی۔ اسی دوران ایک مسخ شدہ لاش کو اہلخانہ نے کپڑوں کی بنیاد پر عبدالوہاب قرار دیکر اس کی تدفین بھی کر دی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بینکوں کے مہنگے ایس ایم ایس چارجز پر سینیٹ کمیٹی برہم، بڑا اقدام اٹھا لیا

تاہم 17 دن بعد اس کہانی نے ایک غیر متوقع موڑ لیا جب ملبے سے ایک شخص کو زندہ نکالا گیا، جو دراصل عبدالوہاب ہی تھے ۔ اس خبر نے نہ صرف اہلخانہ بلکہ پورے علاقے کو حیرت میں ڈال دیا ۔

عبدالوہاب کے رشتہ دار فضل منان کے مطابق ہم نے ایک لاش کو عبدالوہاب سمجھ کر دفنا دیا تھا کیونکہ چہرہ ناقابلِ شناخت تھا اور کپڑوں سے اندازہ لگایا گیا تھا ۔

انہوں نے بتایا کہ عبدالوہاب کے بھائی ناصر نے فون پر روتے ہوئے اطلاع دی کہ وہ زندہ مل گئے ہیں ، جس پر گھر میں کہرام اور خوشی دونوں کی کیفیت طاری ہو گئی ۔

یہ واقعہ خاندان کے لیے جذباتی طور پر نہایت پیچیدہ ہے، کیونکہ ایک جانب عبدالوہاب کی زندگی کی خوشی ہے تو دوسری جانب اس بات کی حیرت بھی کہ جس شخص کو دفنایا گیا وہ کون تھا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایندھن ختم، یورپ میں بڑے فضائی لاک ڈاؤن کا خطرہ منڈلانے لگا

یاد رہے کہ عبدالوہاب کے والدین پہلے ہی ایک بیٹے کے انتقال کا صدمہ جھیل چکے ہیں جو کچھ عرصہ قبل سعودی عرب سے بیماری کی حالت میں واپس آ کر وفات پا گیا تھا ۔

Scroll to Top