آبنائے ہرمز کی بند ش ، یورپ کے پاس صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول رہ گیا جس کے باعث متعدد پروازیں منسوخ ہونے کا خدشہ ہے ۔
اس صورتحال نے ماہرین اور حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہےجبکہ آئندہ ہفتوں میں پروازوں کی منسوخی کے خدشات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا پاکستان سے اظہار تشکر کا انوکھا انداز،امریکہ اور یورپ حیران
عالمی توانائی کے شعبے سے وابستہ ممتاز ادارے عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ یا بندش عالمی سطح پر ایندھن کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس اہم گزرگاہ میں خلل کے باعث نہ صرف پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کئی ممالک اس بحران سے غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، چین، جاپان اور کوریا جیسے ممالک، جو توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس بحران کی پہلی زد میں آئے ہیں تاہم اس کے اثرات بتدریج یورپ اور امریکا تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں ایندھن کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
فاتح بیرول کے مطابق اگر یورپ نے فوری طور پر متبادل ذرائع سے ایندھن کی فراہمی یقینی نہ بنائی، خاص طور پر مشرق وسطیٰ سے درآمدات کے کم از کم نصف حصے کا متبادل تلاش نہ کیا گیا، تو جون تک صورتحال انتہائی نازک ہو سکتی ہے۔
ایسی صورت میں فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جس سے عالمی سفر اور تجارت شدید متاثر ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک جیٹ ایندھن کی عالمی سپلائی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،اگرچہ جنوبی کوریا، بھارت اور چین جیسے ممالک میں بڑی ریفائنریز موجود ہیں، لیکن وہ بھی خام تیل کے لیے بڑی حد تک مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سپلائی چین میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی جہازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع،نوٹم جاری
مزید برآں، یورپی منڈیوں کو گرمیوں کے موسم میں بڑھتے ہوئے سفری دباؤ کے پیش نظر اپنے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہاں تک کہ اگر خلیجی سپلائی جلد بحال بھی ہو جائے، تب بھی عروج کے سفر کے سیزن سے پہلے ایندھن کی کمی کا سامنا برقرار رہ سکتا ہے، جو فضائی صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔




