مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)لوکل گورنمنٹ کے تقریبا 5 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ممبران اسمبلی کے ذریعہ خرچ کرنے کیخلاف سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری حکم امتناعی برقرار,ہائی کورٹ کو کیس جلد یکسو کرنے کے احکامات جاری ۔
یاد رہے کہ مقدمہ بعنوان سردار جاوید شریف و دیگر بنام ممبران اسمبلی میں عدالت العالیہ نے حکومت آزاد کشمیر نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی فنڈز ممبران اسمبلی کے ذریعے خرچ کرنے کیخلاف بلدیاتی نمائندگان کی رٹ سماعت کیلئے منظور کر رکھی تھی۔۔
تاہم اس نسبت حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا حکم امتناعی کی عدم اجراییگی کے خلاف بلدیاتی نمائندگان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔سپریم کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر رکھا تھا ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ:حکم امتناعی کی درخواست مسترد، سماعت شیڈول جاری کرنے کا حکم
اس کیس کی سماعت کیلئے ابتدائی طور پر 15 اپریل کی تاریخ مقرر تھی، تاہم حکومت کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست دائر کی گئی، جس پر عدالت نے 2 اپریل کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی ۔
گزشتہ روز سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان اور جسٹس چوہدری خالد یوسف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسے دوبارہ ہائی کورٹ کو ریمانڈ کر دیا۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:‘زمینی کارروائی کی تو ایک بھی دشمن فوجی زندہ نہیں بچے گا’، ایرانی آرمی چیف کی امریکا کو سخت وارننگ
ہدایت کی کہ عدالت العالیہ اس معاملے کو جلد از جلد میرٹ پر یکسو کرے۔ عدالت نے حکمِ امتناعی کو بھی برقرار رکھا۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ پہلے ہی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کی آئندہ سماعت 7 اپریل کو مقرر ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ عدالت اس اہم آئینی و مالیاتی معاملے پر مزید پیش رفت کرے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتوں میں بڑا بریک تھرو: فی تولہ سونا 7 ہزار روپے سے زائد سستا ہو گیا
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس ترقیاتی فنڈز کے استعمال، اختیارات کی تقسیم اور شفافیت سے متعلق ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، جس کے اثرات آزاد کشمیر کے مالیاتی نظم و نسق اور حکومتی طریقہ کار پر مرتب ہوں گے۔




