آپریشن تھیٹر میں سی سیکشن کا مقابلہ،حکومت کا سخت ایکشن،ڈاکٹرز معطل

پنجاب کے شہر لاہور کے مشہور لیڈی ویلینگڈن اسپتال میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے طبی شعبے کی اخلاقیات پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔

ہسپتال میں ’سی سیکشن‘ آپریشن کے دوران ڈاکٹرز کی 2ٹیموں کے درمیان مقابلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈاکٹرز کا بڑاکارنامہ،7ماہ کے جڑواں بچوں کی بینائی بحال

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو حاملہ خواتین کے آپریشن کے دوران کچھ ڈاکٹرز مبینہ طور پر آپس میں مقابلہ کر رہے تھے کہ کون پہلے سرجری مکمل کرتا ہے۔

اس دوران نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ مریضوں کے وقار کا خیال رکھے بغیر قہقہے بھی لگائے گئے۔ اس سنگین غفلت پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت پنجاب نے چار ڈاکٹروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 2الگ آپریشن ٹیبل پر حاملہ خواتین موجود ہیں اور ان کے گرد ڈاکٹروں کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔

ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹرز آپس میں ’فُل مقابلے‘ کی باتیں کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جلدی کام ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔اس تمام عمل کے لیے ایک ڈاکٹر کو بطور ’جج‘ بھی مقرر کیا گیا تھا۔

ویڈیو میں سنائی دیتا ہے کہ ’یہاں پر فُل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ یا ڈاکٹر طیبہ۔پھر ویڈیو میں ایک دوسری آواز سنائی دیتی ہے کہ ’ڈاکٹر عیسیٰ جج ہوں گے جس پر قہقہے لگنے شروع ہوجاتے ہیں۔

ویڈیو بنانے والی خواتین ڈاکٹرز نے کیمرہ اپنی طرف کر کے خود کو ان ٹیموں کا حمایتی بھی ظاہر کیا اور آپریشن کے دوران نومولود بچوں کے رونے کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کی ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں خودکشی، حادثاتی موت یا قتل؟

صوبائی حکومت نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے طبی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ مریض کا وقار اور اس کی پرائیویسی سب سے مقدم ہےاور اس طرح کا غیر پیشہ ورانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ سرکاری ذمہ داریوں میں غفلت کی بدترین مثال ہے جس نے عوام کا ڈاکٹروں پر اعتماد ٹھیس پہنچایا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب نے نہ صرف متعلقہ ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے بلکہ اسپتال کی ایم ایس اور گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ سے بھی تین روز کے اندر وضاحت طلب کر لی ہے۔

سیکرٹری صحت نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب نہ ملا تو ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، تاہم اس واقعے نے اسپتالوں میں ان قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Scroll to Top