رائٹرز

ایران، امریکا کے اسلام آباد میں مذاکرات ، پاکستان میزبانی کیلئے تیار ہے، دفتر خارجہ

اسرائیلی میڈیانے دعویٰ کیا ہےکہ ایران اور امریکا کے آئندہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات ہوسکتے ہیں جبکہ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ فریقین نے اتفاق کیا تو پاکستان ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا ہے کہ اگرفریقین نے اتفاق کیا تو پاکستان ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار ہے ،رائٹرز کا دعویٰ

ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرانی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بھی گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ اگر فریقین رضامند ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی مذاکراتی عمل جاری نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ رواں ہفتے کے اختتام پر ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان 15 نکاتی معاہدہ طے پایا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کی میٹنگ اسلام آباد میں ہوسکتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا ہےکہ بات چیت اس مرحلے تک پہنچ رہی ہے کہ اس ہفتے پاکستان کے شہر اسلام آباد میں اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایک ممکنہ ملاقات ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ایران کے جنگ متاثرین کے لیے سونا اور نقدی عطیہ کر دی

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی میڈیا سے منسلک صحافی نے ایکس پوسٹ میں اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوسکتے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر ایرانی حکام جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس شریک ہوسکتے ہیں۔

صحافی نے ایکس پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے ترکیے، پاکستان اور مصری حکام امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔

امریکی صحافی کے مطابق مصر اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے اسٹیو وٹکوف اور عباس عراقچی کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی ہے ، ثالثی جاری ہے اور اس میں پیش رفت ہورہی ہے۔

بات چیت جنگ کے خاتمے اور تمام حل طلب مسئلوں کے بارے میں ہے، امریکی ذرائع کے مطابق امید ہے کہ جلد ہی جوابات مل جائیں گے۔

دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کیساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کردیئے: ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔

ایک اور بیان میں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کی طرف سے پیغامات آئے تھے ، پیغامات سے ظاہر ہوتا ہےکہ امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے، ایران نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔

Scroll to Top