پانی بطور ہتھیار استعمال،پاکستان نے عالمی فورم پربھارت کو بے نقاب کردیا

پاکستان نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے تہذیب، معاش اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہماری تہذیب، معاش اور ہمارے معاشی مستقبل پر حملہ ہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے یہ خیالات عالمی یومِ آب کی مناسبت سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے ظاہر کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم ممالک بھارت اور اسرائیلی مظالم کیخلاف اُٹھ کھڑے ہوں، سردار عتیق خان

یہ تقریب، جس کا موضوع “پانی اور صنفی مساوات” تھا، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی اور اس کا اہتمام اقوامِ متحدہ میں تاجکستان کے مستقل مشن نے کیا، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اس کی مشترکہ میزبانی کی۔

وفاقی وزیر نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج جب ہم اپنے خطے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تنازعات کے گہرے بادل منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں ہمارے ہمسایہ ملک کا یکطرفہ طور پر پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے اور سندھ طاس معاہدے جو تقریباً چھ دہائیوں سے قائم ہے کو معطل کرنا نہایت تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اس نوعیت کا اچانک اور یکطرفہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک دیرینہ تعاون کے فریم ورک کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمارے لیے پانی فطرت ہے، پانی انسانیت ہے، پانی ہماری تہذیب ہے۔ ہمارے لیے پانی زراعت ہے۔ ہم ایک زرعی معاشرہ ہیں جو عملی طور پر پانی اور زراعت کے سنگم پر قائم ہے۔

انہوں نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے میں زراعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ قریباً نصف افرادی قوت اسی شعبے سے روزگار حاصل کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی غذائی سلامتی مکمل طور پر زرعی پیداوار سے جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث پانی کا مؤثر انتظام قومی بقا اور خوشحالی کا بنیادی تقاضا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا پانی چھوڑنے کے حوالے سے آگاہی کا طریقہ کار مناسب نہیں ،پاکستانی دفتر خارجہ کا ردعمل

وزیر نے کہا کہ خواتین کی مجموعی ملازمت کا 61 فیصد سے زائد حصہ زراعت سے منسلک ہے، جو پانی تک رسائی، خواتین کے بااختیار ہونے اور معاشی بہتری کے درمیان براہِ راست تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں موسمیاتی آفات کے انسانی اور سماجی اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار بڑے سیلابوں کے دوران تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق، 20 ہزار زخمی یا معذور ہوئے جبکہ تقریباً 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ بچے کم از کم تین ماہ تک بے گھر رہیں تو اس کا مطلب تقریباً 1.8 ارب تعلیمی دنوں کا ضیاع ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے دیگر حصوں کی طرح پاکستان میں بھی خواتین ایسے حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ جب ہم پانی کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم خواتین کے حقوق کی بھی بات کر رہے ہوتے ہیں۔

Scroll to Top