ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی،علیم ڈار سلیکشن کمیٹی سے مستعفی

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی ،علیم ڈار پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ پی سی بی حکام کے حوالے کردیا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی جس کے بعد علیم ڈار نے اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ علیم ڈار کو 11 اکتوبر 2024 میں سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنایا گیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:الجزیرہ کی پاکستان مخالف ایک اور خبر بے نقاب،معافی کی ٹویٹ کر دی

سلیکشن کمیٹی میں اب عاقب جاوید اور اسد شفیق باقی رہ گئے ہیں ۔ ان کے ساتھ ڈیٹا اینالسٹ عثمان ہاشمی ہیں جن کو ووٹ دینے کا حق نہیں ۔وہ صرف کرکٹرز کی رفارمنس پر سلیکٹرز کی رہنمائی کرتے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق سلیکشن کمیٹی میں مصباح الحق بھی خاموش ہیں، اور عاقب جاوید کوچ مائیک ہیسن کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علیم ڈار کا شکوہ ہے کہ سلیکٹرز پاکستان کے بہترین 20 کھلاڑیوں کا اعلان کرتے ہیں، پھر کپتان اور کوچ غلط 15 کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر پلیئنگ الیون میں بھی غلط منتخب کی جاتی ہے،

سلیکٹرز تو صرف تنقید کے لیے رہ جاتے ہیں۔آئی سی سی ٹی 20ورلڈ کپ میں علیم ڈار نے سابق کپتان بابر اعظم اور آل راؤنڈر شاداب خان کی بنا پرفارمنس اسکواڈ میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا،

مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن ، 13 بلدیاتی نشستوں پرضمنی الیکشن کا شیڈول جاری

لیکن کپتان سلمان علی آغا جن کی بطور کپتان علیم ڈار کی نظر میں اسکواڈ جگہ ہی نہیں بنتی، انھوں نے اور بالخصوص عاقب جاوید نے کوئی مزاحمت نہیں دکھائی اور کوچ مائیک ہیسن نے کھلم کھلا سلیکشن معاملات میں صرف اپنی چلائی۔

علیم ڈار نے وکٹ کیپر عثمان خان کی جگہ تجربے کار وکٹ کیپر محمد رضوان کو نمبر چھ پر کھلانے کی تجویز پیش کی تھی۔۔

ان کا مؤقف تھا کہ اگر شاداب اور بابر بغیر کسی پرفارمنس کے ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں تو محمد رضوان کو بھی ایک اور موقع ملنا چاہیے۔

علیم ڈار کا ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کرکٹ سے بہت عزت دی ہے، وہ کٹھ پتلی بن کر کام نہیں کرنا چاہتے ،بہتر ہے وہ مستعفی ہو جائیں ۔

Scroll to Top