ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث چین نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی برطانیہ نے بھی تہران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا کر انہیں دور بیٹھ کر کام کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں ایران میں موجود چینی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور اگر ممکن ہو تو فوراً ملک چھوڑ دیں۔ چینی حکومت نے اپنے شہریوں کو فی الحال ایران کا سفر کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے بھی تہران میں موجود اپنے سفارت خانے کے عملے کو واپس بلا لیا ہے اور انہیں ریموٹ طریقے سے کام جاری رکھنے کا کہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علاقائی کشیدگی اور بھارتی اور افغان میڈیا کا منفی کردار: غیر مصدقہ خبروں اور پراپیگنڈےکا بازار گرم
امریکی حملوں کے ان خدشات کی وجہ سے کئی دوسرے ممالک نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں مقیم اپنے شہریوں کے لیے انتباہ جاری کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان یورینیم کی افزودگی پر دو روز سے مذاکرات جاری تھے۔ عمانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنی یورینیم افزودگی 60 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد پر لانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے افزودگی مکمل طور پر ختم نہ کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور طاقت کا استعمال ان کی ترجیح نہیں، لیکن کبھی کبھار طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔




