نئی دہلی(کشمیر ڈیجیٹل)مودی سرکار کا ایک اور بڑا جھٹکا، فرانس سے 60سے زائد رافیل طیاروں کی خریداری کے باوجود بھارتی فضائیہ کو آپریشنل آزادی نہ مل سکی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملٹری واچ میگزین کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ فرانس نے بھارت کو رافیل لڑاکا طیارے کا سورس کوڈ دینے سے انکار کردیاہے ۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کو الیکٹرانک وار فیئر سوٹس تک بھی رسائی نہیں ملے گی۔ جنگ کی صورت میں بھارتی رافیل طیارے فرانس کے رحم و کرم پر ہونگے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایس ایس پی ریاض حیدر بخاری کی بھکاریوں کیخلاف دفعہ 144 پرعملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت
بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بھارت کو دماغ کے بغیر رافیل طیارے دیئے گئے ہیں، طیاروں کی کارکردگی میں بہتری کیلئے بھارت فرانس کا محتاج ہی رہے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت نے 1980 کی دہائی میں فرانس سے میراج-2000 جنگی طیارے بھی خریدے تھے لیکن آج تک اس کے لیے سورس کوڈ حاصل نہیں کر سکا۔
اس وجہ سے کئی بھارتی میزائل سسٹمز ان طیاروں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔ یہی صورتحال رافیل کے ساتھ بھی درپیش ہے۔
رافیل میں موجود ”ایکٹو الیکٹرانکلی اسکینڈ ارے“ (اے ای ایس اے) ریڈار اور ”ماڈیولر مشن کمپیوٹر“ (ایم ایم سی) جدید ترین سسٹمز ہیں، جو طیارے کا مکمل ڈیجیٹل نیٹ ورک کنٹرول کرتے ہیں۔
جب تک بھارت کو ان کا سورس کوڈ نہیں ملتا، اُسے ہر چھوٹی تبدیلی یا ہتھیار کی اپگریڈیشن کے لیے فرانس پر انحصار کرنا پڑے گا،جو دفاعی منصوبہ بندی میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شمالی وزیرستان، لکی مروت میں کارروائیاں، 4خوارج جہنم واصل، آئی ایس پی آر
پاکستانی دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
جہاں پاکستان اپنے وسائل اور مہارت سے دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہا ہے، وہیں بھارت دنیا بھر سے اسلحہ خریدنے کے باوجود ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر ہے۔
عالمی سطح پر بھی یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ اگر بھارت واقعی ایک خودمختار دفاعی طاقت ہوتا، تو کیا اُسے ہر بار کسی اور ملک سے ٹیکنالوجی کی بھیک مانگنی پڑتی؟
موجودہ حالات میں بھارت کا جنگی جنون اُسے ایسی بند گلی میں لے جا رہا ہے جہاں صرف ہتھیاروں کی نمائش رہ جاتی ہے، اصل طاقت کا کوئی ثبوت نہیں۔




