مقبوضہ کشمیر: جبری گمشدگیوں میں اضافہ، کشمیریوں میں تشویش کی لہر

سرینگر (کشمیر ڈیجیٹل)مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ ، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا نام نہاد جمہوری چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔

بھارتی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں ایک بار پھر کشمیری نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں اضافے سے کشمیری عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔

نہام نہاد بھارت کا جمہوری چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھنے لگے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جتنی رقم اٹھا سکتے ہو اٹھا لو!کمپنی ملازمین میں انوکھے انداز سے بونس تقسیم

معتبر ذرائع کے مطابق سال 2023 کے دوران 7,141 افراد کے لاپتہ ہونے کے کیسز رپورٹ ہوئے۔

سال 2023 میں رپورٹ ہونے والے 7,141 کیسز میں سے 2,961 افراد کو تلاش یا بازیاب کر لیا گیا۔ تاہم 4,190 افراد سال کے اختتام تک تاحال لاپتہ رہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں لاپتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سال 2020 کے اختتام پر لاپتہ افراد کی تعداد 3,813 تھی، جو بڑھ کر سال 2023 کے اختتام تک 4,190 ہو گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ملکیتی اراضی پرقبضے کی کوشش، غریب غلام رسول گنائی کی انصاف کی اپیل

ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں اور عالمی برادری کی توجہ کے متقاضی ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ انصاف اور شفاف تحقیقات کے منتظر ہیں۔

Scroll to Top