امریکہ

دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایرانی وزیر خارجہ ،مذاکرات کیلئے جنیوا پہنچ گئے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی حکام کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں۔

تہران کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جوہری امور پر بالواسطہ مذاکرات آج منگل کو ہوں گے، جن کی میزبانی عمان کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے سمجھوتوں پر آمادگی کا اظہار

واشنگٹن اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ قوتوں جیسے دیگر معاملات بھی زیر بحث آئیں۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اس ماہ دوبارہ شروع ہوئے ہیں، اس سے قبل گزشتہ جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر غیر معمولی بمباری مہم کے بعد بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے 400 کلوگرام سے زائد ذخیرے کے مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، جس کا آخری بار معائنہ جوہری نگران ادارے کے انسپکٹرز نے جون میں کیا تھا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی اور ماہرین پر مشتمل وفد کے ہمراہ جنیوا پہنچے ہیں تاکہ جوہری مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کر سکیں۔

عباس عراقچی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے ملاقات کی اور کہاکہ وہ عمان کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے، جو منگل کو ہونے والے مذاکرات کی میزبانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے حقیقی تجاویز کے ساتھ جنیوا میں موجود ہیں، تاہم دھمکیوں کے سامنے جھکنا مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی اپنے دورے کے دوران سوئس ہم منصب اور دیگر بین الاقوامی عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جوہری معاہدہ نہ ہونے پر ایران کیلئے نتائج تکلیف دہ ہوں گے، ٹرمپ کی پھر دھمکی

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو مذاکرات کے لیے روانہ کیا ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔

مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹم بم کی تیاری کی جانب گامزن ہے، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

Scroll to Top