افواجِ پاکستان کشمیریوں کے لیے ‘امید کی کرن’ اور واحد سہارا ہیں :سابق ڈپٹی سیکرٹری IIOJK فاروق کرمانی

مقبوضہ کشمیر کے سابق ڈپٹی سیکرٹری فاروق کرمانی نے ‘اوورسیز کشمیری کنونشن’ سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور خطے کے مسلمانوں کی صورتحال پر انتہائی اہم اور بصیرت افروز بیان جاری کیا ہے۔

ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے سابق بیوروکریٹ نے انکشاف کیا کہ بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ علاقے میں بطور ڈپٹی سیکرٹری ان کا تجربہ انتہائی ناخوشگوار رہا اور وہاں کے حالات سے انہیں اس قدر گھٹن محسوس ہوتی تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم کا بہانہ بنا کر مستقل طور پر برطانیہ منتقل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد میں اوورسیز کشمیریز کنونشن کا آغاز، سرمایہ کاری اور ترقی پر زور

آزادی کی قدر اور دو قومی نظریہ:

مقبوضہ کشمیر میں اہم عہدے پر فائز رہنے والے فاروق کرمانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈپٹی سیکرٹری جیسے اعلیٰ عہدے پر رہنے کے باوجود انہیں اپنا پاسپورٹ حاصل کرنے میں 5 سال کا طویل عرصہ لگ گیا۔ فاروق کرمانی کا کہنا تھا کہ وہ اس نوعیت کے ہزاروں واقعات سنا سکتے ہیں ۔

فاروق کرمانی نے آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب وہ کشمیر سے نکلے اور مختلف ممالک میں قیام کے دوران پاکستانی دوستوں اور طلبہ سے ملے، تو ان کے لیے سب سے بڑا سرپرائز یہ تھا کہ پاکستانی اور آزاد کشمیر کے عوام نے اپنی آزادی کو کس قدر ‘For Granted’ (معمولی) لے لیا ہے۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کر رہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر کا مسلمان جس اذیت ناک صورتحال میں زندگی گزار رہا ہے، اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ ان کا یہ بیان آزادی کی اہمیت کا احساس بھی دلاتا ہے۔

فاروق کرمانی نے شرکاء کو بتایا کہ بچپن میں وہ ‘دو قومی نظریہ’ کی حقیقت پر شک کرتے تھے، لیکن وقت، علم اور تجربے نے انہیں یہ سمجھا دیا کہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی بقا کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مشکلات دیکھ کر انہیں اس وقت دکھ ہوتا ہے جب وہ پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنی آزادی کی قدر کرتے ہوئے نہیں پاتے۔

افواجِ پاکستان اور مسئلہ کشمیر کا حل:

سابق ڈپٹی سیکرٹری نے زور دے کر کہا کہ آزادی کے اصل معنی ان کشمیریوں سے پوچھیں جن کے حقوق سلب کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، مسئلہ کشمیر کا واحد اور پائیدار حل “الحاقِ پاکستان” ہی ہے، کیونکہ افواجِ پاکستان محض ایک ملک کی سلامتی کی ضامن نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی حالتِ زار پر سوال اٹھاتے ہوئے پیغام دیا کہ پاکستان کا استحکام ہی امتِ مسلمہ کی مضبوطی ہے۔

مزید پڑھیں: سوزوکی کی پاکستان میں نئی 7 سیٹر ویگن آر 2026 متعارف، قیمت اور مائلیج نے سب کو حیران کر دیا