امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے اہم ملاقات کے بعد ایران سے ممکنہ معاہدے کو ترجیح دینے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ملاقات میں نیتن یاہو کے متعدد نمائندے بھی شریک تھے اور بات چیت انتہائی مثبت ماحول میں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ رکوانے میں اہم کردار ادا کیا، جھڑپ میں 10 طیارے تباہ ہوئے:ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے اور اب دیکھا جا رہا ہے کہ آیا معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو ہم دیکھیں گے کہ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی بار ایران نے ڈیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسے “مڈنائٹ ہیمر” بمباری کا سامنا کرنا پڑا، جو ایران کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔
امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ اس بار ایران کا رویہ زیادہ ذمہ دارانہ اور معقول ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے مفادات کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔
ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور خطے کی سکیورٹی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات بدستور قائم ہیں، تاہم اس ملاقات میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سرحد تاریخ میں پہلی بار 100 فیصد محفوظ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ ونڈ انرجی کے حق میں نہیں ہیں اور توانائی پالیسی پر بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت قدم اٹھائیں گے: صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف دوسرا بحری بیڑہ بھیجنے کا انتباہ
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم حتمی نتیجہ ایران کے طرزِ عمل پر منحصر ہوگا۔




