لچھراٹ کے سپوت آئی ٹی انجینئر افتخار حسین میر کا آئندہ الیکشن لڑنے کا اعلان

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آسٹریلیا، دبئی سمیت بیرونِ ملک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کا نام روشن کرنے والے حلقہ لچھراٹ کے سپوت انجینئر افتخار حسین میر نے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا

انجینئر افتخار حسین میر کا کہنا تھاکہ آزاد کشمیر کے مسائل کا واحد حل ہنرمند تعلیم، ریاستی ڈھانچے کی تنظیمِ نو اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال میں مضمر ہے۔

برادری ازم کی سیاست نے معاشرتی و اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ سیاست دراصل بامقصد خدمت اور انبیاء کرامؑ کی سنت ہے۔

مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر افتخار حسین میر کا کہنا تھا کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی قبیلے یا برادری میں پیدا نہیں ہوتا اس لئے برادری کی بنیاد پر سیاست اور قیادت کے دعوے ناقابلِ قبول ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے آزاد کشمیر بالخصوص حلقہ لچھراٹ کے تمام ترقیاتی فنڈز کو عوام کے سامنے رکھا جائے گا اور ماضی کی روایات کو مستقبل میں دہرانے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں صرف ٹیکس وصولی پر توجہ دے رہی ہیں، مگر عوام کو اس کے عوض بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔

تعلیم، صحت اور روزگار ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن بدقسمتی سے آزاد کشمیر دنیا کا واحد خطہ بنتا جا رہا ہے جو مسلسل زوال کا شکار ہے۔

دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ آزاد کشمیر ترقیِ معکوس کی مثال بنا ہوا ہے۔ یہاں کسی بھی شعبے میں مؤثر منصوبہ بندی موجود نہیں، ریاست غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کی افواہیں درست نہیں، بیرسٹر گوہرکی وضاحت

انجینئر افتخار حسین میر نے کہا کہ دنیا میں یہ واحد علاقہ ہے جہاں آٹے اور توانائی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے عوام کو طویل عرصے تک سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑا، حالانکہ ایسے حالات دنیا کے دیگر خطوں میں صدیوں پہلے دیکھے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ آزاد کشمیر میں گزشتہ چار دہائیوں سے جمہوریت کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں پالیسی سازی بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہے اور عوام حکومتی نظام سے مستفید نہیں ہو پا رہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 22 سال تک مختلف ممالک میں بطور سافٹ ویئر انجینئر خدمات سرانجام دیتے رہے اور اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں تبدیلی کے جذبے کے ساتھ وطن واپس آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں بہترین تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا اور اب مٹی کا قرض چکانے کا وقت آ چکا ہے۔ دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے، اس لیے ترقی کے لیے کسی بھی کامیاب عالمی ماڈل کو اپنانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر میں 58 ارب ڈالر مالیت کا گرینائٹ موجود ہے، مگر اس کی نکاسی کا کوئی جامع منصوبہ نہیں۔ صحت کے شعبے میں بڑے ہسپتال بنانے کے بجائے ٹیلی میڈیسن جیسے جدید ماڈلز اپنانے کی ضرورت ہے۔

تعلیم کے شعبے میں 18 فیصد بجٹ خرچ کرنے کے باوجود معیار انتہائی ناقص ہے، سرکاری تعلیمی ادارے محض روزگار کے مراکز بن چکے ہیں جس کے باعث بیروزگار نوجوان معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:تسنیم شوکت کا بڑا اعزاز، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی جانب سے عالمی ایوارڈ مل گیا

انہوں نے مزید کہا کہ سڑکیں تو بن رہی ہیں مگر حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے، جبکہ معاشرے میں کرپشن، ناانصافی، جھوٹ اور بددیانتی عام ہو چکی ہے۔

کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی مؤثر میکانزم موجود نہیں حالانکہ اگر نظام میں ٹیکنالوجی کا بیریئر لگا دیا جائے تو متعدد مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔

بعض معاملات میں انصاف کے حصول کے لیے مہینوں لگ جاتے ہیں، جبکہ یہی کام ٹیکنالوجی کے ذریعے منٹوں میں ممکن ہے۔

انجینئر افتخار حسین میر نے خبردار کیا کہ آئندہ حلقہ لچھراٹ میں ملنے والے تمام ترقیاتی فنڈز کو ایک ایپ اور آن لائن پورٹل کے ذریعے عوام کے سامنے لایا جائے گا، تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے نام پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برادری کے نام پر ووٹ لے کر معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی سیاست اب مزید نہیں چل سکتی، برادری ازم ایک لعنت ہے جس سے نجات کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد محض اصلاح اور بہتری ہے، اور وہ اس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں جس کا پروگرام عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہو۔ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

آئی ٹی کے شعبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ٹی محض ڈگری نہیں بلکہ ایک ہنر ہے، اور آج دنیا میں ہنر مند اور مثبت رویے کے حامل افراد ہی ترقی کر رہے ہیں۔

آزاد کشمیر میں نوجوانوں کی تعداد 60 فیصد ہے، جو آئی ٹی کی تربیت حاصل کر کے نہ صرف اپنی معیشت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ قومی دولت میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے حوالے سے ان کی صلاحیتیں قوم کی امانت ہیں، اور وہ ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت یہ علم اور مہارت عوام تک منتقل کریں گے۔

Scroll to Top