تہران(کشمیر ڈیجیٹل)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ حملے سے باز نہ آیا تو خطے میں موجودا ن کے تمام فوجی اڈے ہمارا نشانہ ہوں گے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا سے جوہری مذاکرات کا اگلا دور ابھی طے نہیں ہوا، دونوں فریق چاہتے ہیں بات چیت جلد شروع ہو۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام سے دستبرداری کی کسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے میزائل پروگرام کو قومی دفاع کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ بات چیت صرف جوہری مسئلے تک محدود ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بجلی مزید مہنگی: فروری کے بلز میں اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا طریقہ کار نہیں بلکہ ایجنڈا اور سنجیدگی اہم ہے، عمان میں ہونے والے مذاکرات صرف ایٹمی حملے تک محدود تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی ہمارا ناقابل تردید حق ہے جسے بمباری سے ختم نہیں کیا جاسکتا، ہمارے پاس جنگ اور سفارت کاری دونوں آپشن موجود ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ، عمران خان، شاہ محمود قریشی کے13 مقدمات سماعت کیلئے مقرر
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے اگر حملہ کیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا، میزائل پروگرام دفاعی معاملہ ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:محکمہ برقیات کا عارضی ملازم حق کی خاطر لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گیا
انہوں نے کہا کہ اولین ترجیح جنگ سے بچاؤ اور سفارتی حل ہے، فیصلہ امریکا پر ہے کہ وہ مذاکرات یا جنگ میں سے کونسا راستہ اختیار کرتا ہے۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے ،۔ امریکہ جان لے کہ اس کے حلیف ملک کو ایران نے جس طرح نشانہ بنایا وہی حال امریکہ کا بھی ہوگا ۔




