اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں دھماکہ ہمارے لئے چیلنج تھا۔
وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ راولپنڈی مسجد میں دھماکے کے بعد پشاور اور نوشہرہ میں چار سہولت کار پکڑے گئے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی ، داعش ملکر کام کررہی ہیں
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ 21 دہشتگرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ ہورہی ہیں۔ دعویٰ کرتا ہوں کہ ایک دھماکہ ہوتا ہے تو 99 پکڑ رہے ہیں ۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو ڈالروں میں پیسہ آرہا ہے ، جون میں تین گنا بڑھایا گیا، پہلے 500 ڈالر ملتے تھے اب 1500 ڈالر دیئے جارہے ہیں ۔
بھارت ہر پلاننگ کے پیچھے موجود،ایک دن ہر ملک بھارت کیخلاف بولے گا ،
مزید یہ بھی پڑھیں:جہلم ویلی میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ، انٹرپوائنٹس پر چیکنگ کا نظام سخت
ہمارا بھی فرض ہے کہ یہ کیس عالمی فورم پر لڑا جائے ۔ ہمارے پاس ثبوت موجو دہیں ۔ دشمن دشمن ہوتا ہے اس میں تقسیم نہیں ہوتی۔ چار لوگ پکڑے گئے ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ ترلائی میں ہونے والے خودکش دھماکے نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا، کل رات آپریشن چل رہے تھے ہم ساری رات نہیں سوئے۔
محسن نقوی نے کہاکہ دہشتگردوں کی 21 بین الاقوامی تنظیمیں افغانستان سے کام کررہی ہیں، اسلام آباد حملے کی تربیت اور منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں کہ کیسے خود کش حملہ آور کو لایا گیا، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ کمیونٹی انٹیلی جینس مؤثر ہونی چاہیے۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ بھارت کی جانب سے دہشتگردوں کو فنڈنگ کی جارہی ہے، خیبرپختونخوا ہو یا بلوچستان ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بھارت روایتی طریقے سے پاکستان سے جنگ نہیں جیت سکتا، اس لیے پراکسیز کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت نے پاکستان میں دہشتگردی کرنے کے لیے اپنا بجٹ بڑھایا ہے، ہم جنازے اٹھا رہے ہیں اور دنیا خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کو ڈالرز میں فنڈنگ کی جارہی ہے، جب دوسرے ملکوں میں بھی ایسے جنازے اٹھیں گے تو پھر یہ لوگ بولیں گے۔
محسن نقوی نے کہاکہ اس بار بلوچستان میں جو دہشتگردی کرنے کے لیے آیا وہ بچ کر نہیں گیا، ملک کے ایک انچ پر بھی دہشتگردوں کا قبضہ نہیں، یہ چھپ کر کارروائی کرتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ٹی ٹی پی، افغان طالبان اور داعش سب مل کر کام کررہے ہیں، یہ دہشتگردی اب علاقائی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ کسی بھی واقعے کے بعد بی ایل اے کا کانٹینٹ بھارتی میڈیا پر چل رہا ہوتا ہے، لیکن کوئی اس پر بات نہیں کرتا۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ ہمارے سفارتکار دنیا کو بھارت کی دہشتگردی سے آگاہ کریں گے، جبکہ ہم نائب وزیراعظم کو بھی اس صورت حال پر بریف کریں گے۔




