اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل ترین معاشی حالات کا سامنا کیا لیکن حکومتی اقدامات اور عوام کی قربانیوں کی بدولت ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ گیا ۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قرض لینا آسان نہیں ہوتا اور اس دوران ملک کو متعدد سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے صنعتی شعبے کے لیے خوشخبری بھی سناتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے کمی کی گئی ہے ۔
وزیراعظم نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات انتہائی نازک مرحلے میں تھے اور پہلی میٹنگ میں نئے پروگرام کے لیے شرائط سخت تھیں، تاہم پاکستان نے اپنی کمٹمنٹس پوری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی مثال سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے واضح کیا کہ اگر کمٹمنٹس پوری نہ ہوئیں تو پاکستان ذمہ دار نہیں ہوگا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں کینسر کے علاج کیلئے ہسپتال کا قیام خوش آئند ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
شہباز شریف نے کہا کہ دوست ممالک، خصوصاً چین، سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے پاکستان کی بھرپور مدد کی اور آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فارن ایکسچینج ریزروز تقریباً دگنے ہو چکے ہیں اور معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں ۔
وزیراعظم نے کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کی محنت کو سراہا اور کہا کہ ملکی برآمدات میں 2025 میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد تک آ گیا ہے اور مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آ رہی ہے ۔
شہباز شریف نے شفافیت اور اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن اور غیر ضروری اخراجات ختم کیے گئے ہیں اور ٹیکسز میں کمی کیلئے اقدامات جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ سازگار ماحول فراہم کرنا ہے اور نجی شعبہ ملک کی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افواج پاکستان نے بھارت کووہ سبق سکھایا جووہ ہمیشہ یاد رکھے گا،وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے، غربت کم کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے، اور ملک عالمی معیشت میں اپنا مقام مضبوطی سے بنا رہا ہے ۔




