مظفرآباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے قائم کیے گئے ہسپتال کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں، اور مریضوں کے علاج کے لیے 24 گھنٹے سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز مظفر آباد میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی (کنور) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ آزاد کشمیر میں کینسر کے علاج اور تشخیص کے لیے ہسپتال قائم کیا گیا، جس سے پہلے مریضوں کو سینکڑوں میل کا سفر کرنا پڑتا تھا جو تکلیف دہ اور مہنگا تھا۔
وزیر اعظم کے ساتھ آزاد کشمیر کے وزیر اعلیٰ راجا فیصل ممتاز راٹھور، وفاقی وزراء احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ، امیر مقام، آزاد کشمیر کے ارکان اسمبلی، چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن، پروفیسرز، سرجنز اور فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔
شہباز شریف نے اٹامک انرجی کمیشن، ایس پی ڈی، مخیر حضرات اور ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہسپتال کے قیام میں کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ خود بھی کینسر کے مریض رہے ہیں اور اس مرض کے علاج کی مشکلات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید وسائل اور ذرائع بروئے کار لاکر مریضوں کا علاج معالجہ کیا جائے اور سہولیات 24 گھنٹے فعال رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر ، کینسر کے مریضوں کو 24گھنٹے سہولیات فراہم کی جائیں، شہباز شریف
قبل ازیں وزیر اعظم نے تختی کی نقاب کشائی کرکے ہسپتال اور میڈیکل کالج کا افتتاح کیا، ہسپتال کے مختلف شعبوں اور مشینری کا معائنہ کیا اور مرض کی تشخیص و علاج کی سہولیات کے بارے میں بریفنگ بھی لی۔
چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن راجا علی رضا انور نے کہا کہ ملک بھر میں ایٹمی توانائی کمیشن کے 21 ہسپتال کینسر کے علاج کے لیے کام کر رہے ہیں، جن میں آزاد کشمیر بھی شامل ہے، اور سالانہ تقریباً دس لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 60 فیصد مریض آخری سٹیج کے ہوتے ہیں، اور اس ہسپتال کے قیام سے مقامی سطح پر علاج ممکن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:افواج پاکستان نے بھارت کووہ سبق سکھایا جووہ ہمیشہ یاد رکھے گا،وزیراعظم شہباز شریف
ڈی جی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی رافیل ماریانو گروسی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور 2050 تک اس میں 75 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک کروڑ سے زائد لوگ اس مرض کا شکار ہیں، اور آزاد کشمیر میں ہسپتال کا قیام ایک اہم سنگ میل ہے۔




