اسلام آباد (29 جنوری 2026):وفاقی حکومت نے قیمتی پتھروں کی برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے آئندہ پانچ سال کے دوران اس شعبے سے ایک ارب ڈالر تک کی برآمدات کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے سال 2027 سے 2030 تک کے عرصے کے لیے قیمتی پتھروں سے متعلق حکومتی پالیسی کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس ابتدائی پالیسی ڈرافٹ کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کو آگاہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس پالیسی کو جلد وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں ردوبدل کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کی برآمدات سے متعلق پالیسی کے ابتدائی مسودے پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت دی ہے، تاکہ پالیسی کو جامع اور مؤثر بنایا جا سکے۔
ابتدائی پالیسی مسودے کے مطابق جیمز اینڈ جیولری پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سال کے دوران برآمدات میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سال میں 3 ہزار 500 ورکرز کو تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ اس شعبے میں مہارت اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
دستاویز کے مطابق جیمز اینڈ جیولری کے فروغ کے لیے 320 بین الاقوامی جبکہ ایک ہزار مقامی نمائشوں کے انعقاد کا بھی منصوبہ شامل ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سال کے دوران جیم اسٹون سینٹر کے ذریعے 6 کروڑ 24 لاکھ روپے کی ویلیو ایڈیشن کی جائے گی۔
دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ قیمتی پتھروں کی برآمدات کو بہتر بنانے کے لیے آئندہ پانچ سال میں 48 مشینوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ آئندہ چار سال کے دوران قیمتی پتھروں کی صنعت کے فروغ کے لیے 9 ارب 78 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔




