ٹرمپ کا مسلم رکن پارلیمان الہان عمر کیخلاف تحقیقات کاحکم کیوں دیا؟ اہم وجہ سامنے آگئی

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سخت ناقد کانگریس کی مسلم رکن الہان عمر کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کو تحقیقات کا حکم دیدیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی کانگریس کی رکن الہان عمر کی دولت اور مالی معاملات کا جائزہ لینا شروع کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ ٹرمپ تنازعِ کشمیر کو بھی بورڈ میں لا سکتے ہیں‘: غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پرانڈیا کی ’اُلجھن‘

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ تحقیقاتی ادارے کانگریس وومن الہان عمر کو بھی دیکھ رہے ہیں جو صومالیہ سے خالی ہاتھ آئیں اور اب مبینہ طور پر 44 ملین ڈالر سے زائد کی مالک ہیں، وقت سب کچھ واضح کر دے گا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ منی سوٹا میں 20 ارب ڈالر سے زائد ویلفیئر فراڈ کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے الہان لوگوں کو پرتشدد مظاہروں کیلئے اکسا رہی ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنے بارڈر امور کے مشیر ٹام ہومَن کو منی سوٹا بھیج رہے ہیںجو براہِ راست انہیں رپورٹ کریں گے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے نرس الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

منیاپولس سے منتخب ہونے والی صومالی نژاد امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر نے صدر ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ صدر ٹرمپ آپ کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے اور آپ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو دھمکیوں کا جواب، یورپی یونین نے امریکا کیساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا

الہان عمر نے صدر ٹرمپ کو کہا کہ آپ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے میرے بارے میں جھوٹ اور سازشی نظریات پھیلا رہے ہیں۔ برسوں کی تحقیقات میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔ اپنے غنڈوں کو منی سوٹا سے نکالیں۔

خیال رہے کہ رپورٹس کے مطابق الہان عمر کی دولت میں حالیہ برسوں میں اضافہ ان کے شوہر کی کاروباری کامیابیوں کے باعث ہوا ہے۔

Scroll to Top