اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے 22 اگست 2025 کو ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف پی ای سی اے 2016 کی دفعات 9، 10، 11 اور 26-A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے آج عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔
ہائیکورٹ نے آج کے دن تک ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گواہان پر جرح کا حکم دے رکھا تھا۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دیگر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیا گیا تھا
پراسکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا ایڈووکیٹ، بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیجانب سے اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے
پراسکیوشن کی جانب سے کیس میں مجموعی طور پر 5 گواہان پیش کئے گئے۔پراسکیوشن کی جانب سے 30 صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں پیش کیا
ایمان مزاری اور ہادی علی پر پی ٹی ایم، ودیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے کا الزام تھا۔ملزمان پر ریاستی اداروں کیخلاف مواد کی تشہیر کا بھی الزام تھا۔
پراسکیوشن کیجانب سے چالان میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مختلف ٹویٹس بھی بطور ثبوت فراہم کی تھی۔پراسیکیوشن کیجانب سے ایمان مزاری کی ریاست مخالف تقریر بھی عدالت میں پیش کی گئی تھی
ملزمان کو ابتدا میں گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ غیر معمولی رعایت دی گئی۔پیشگی ضمانت کے بعد ملزمان نے عدالتی کارروائی کا مذاق اُڑایا گیا۔
میڈیا پر بیانات دیئے اور بار بار پیشی سے گریز کیا۔5 ماہ میں 44 سماعتیں ہوئیں، کیس 104 مرتبہ پکارا گیا،53 بار ملزمان غیر حاضر رہے۔
7 مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہوئے، جو بار بار واپس لیے گئے۔عدالت نے غیر معمولی برداشت دکھائی، مگر ملزمان نے جان بوجھ کر کارروائی میں رکاوٹیں ڈالیں۔
آخرکار عدم حاضری پر ضمانت منسوخ اور وارنٹ جاری کیے گئے۔ ریاستی مؤقفملزمان کا رویہ عدالت کی توہین، عدالتی نظام کو مفلوج کرنے اور انصاف میں تاخیر کی سوچی سمجھی کوشش تو نہیں ؟۔عام ملزمان کو ایسی رعایتیں کبھی نہیں ملتیں۔۔
ایمان مزاری کے متنازع ٹوئٹس
ریاست کے مطابق ایمان مزاری کے سوشل میڈیا بیانات میںدہشتگرد تنظیم BLA اور دیگر ممنوعہ عناصر کی بالواسطہ حمایتی ، ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا، اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی بیانیہ ۔ ریاست کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی گئی ،
ملزمان نے نسلی تقسیم اور خوف پھیلانے کی کوشش کی ۔ یہ تمام مواد PECA کی دفعات 9 (جرم کی تمجید)، 10 (سائبر دہشت گردی)، 11 (نفرت انگیز تقریر) اور 26-A (جھوٹی خبر) کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت کا فیصلہ ۔یہ کیس آزادیٔ اظہار نہیں بلکہ قانون، ریاست اور عدالتی عمل کو چیلنج کرنے کا معاملہ ہے۔اگر بیانات درست ہیں تو ان کا جواب عدالت میں دلائل سے دیا جائے، تاخیری حربوں سے نہیں۔




