بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں پیش آنے والے ایک سڑک حادثے کے نتیجے میں بھارتی فوج کے 10 اہلکار ہلاک جبکہ 10 زخمی ہو گئے ہیں۔
حادثے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اس حادثے پر دل گرفتہ ہیں، جس میں بھارتی فوج کے بہادر اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مارشل لاء کیس :جنوبی کوریا کے سابق وزیراعظم کو 23 سال قیدکی سزا سنادی
نریندر مودی کے مطابق فوجی اہلکاروں کی قوم کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جبکہ زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی گئی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے ایک اور بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ اب بادلوں اور کھائیوں پر کچھ میزائل داغ دیئے جائیں اور ایک اور کامیابی کا دعویٰ کیا جائے۔
اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپریشن سندور (Op Sindoor) جاری ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق نریندر مودی، جو ماضی میں بھارت میں ہونے والے بیشتر حادثات اور ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتے رہے ہیں، اس مرتبہ اپنے بیانات میں پاکستان کا نام لینے میں محتاط دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپریشن سندور مین عبرتناک شکست سے سبق سیکھنے کے بعد بھارتی وزیر اعظم براہِ راست الزام تراشی سے گریز کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ چکے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق نریندر مودی کے بیانات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ ڈوڈہ، جموں و کشمیر میں جاری صورتحال کو ایک آزادی کی جدوجہد کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق نریندر مودی کے بیانات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ ڈوڈہ، جموں و کشمیر میں جاری صورتحال کو ایک آزادی کی جدوجہد کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے بیانات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام نے آرٹیکل 370 کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔




