آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کی جانب سے تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ حکمت عملی کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عام عوام، بالخصوص تنخواہ دار طبقے، کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے اور صنعتی شعبے پر ٹیکس کے دباؤ میں کمی لائی جائے۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کو مزید ٹیکس نہ لگانے پر منانے کی کوشش کرے گی۔ بتایا گیا ہے کہ 30 جون تک ٹیکس ریونیو میں پیدا ہونے والے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے متبادل ذرائع سے ٹیکس آمدن بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محکمہ ان لینڈریونیو آزادکشمیر نے ٹیکس گزاروں کی بڑی مشکل حل کردی
حکومت نے سمگلنگ کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ٹیکس چوروں اور نان فائلرز کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر نمود و نمائش کرنے والے نان فائلرز کے خلاف خفیہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ایف بی آر کا خصوصی ونگ ان پلیٹ فارمز پر سرگرم نان فائلرز کے ڈیٹا کا آڈٹ کر رہا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ میں وسعت لائی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کے عملی اقدامات پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کی باقاعدہ حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے ٹیکس ریٹس میں کمی سے متعلق تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت بھی دی ہے، اور اس حوالے سے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
آئندہ بجٹ میں نئی انڈسٹریل پالیسی کے تحت مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سپر ٹیکس کے اسٹرکچر میں اصلاحات کے تحت چار برسوں میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس کی شرح کم ہو کر پانچ فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پرائمری بیلنس سرپلس ہونے کی صورت میں پانچویں سال سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینےکیلئے حکومت نےاہم فیصلہ کر لیا
مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے کم سے کم آمدن پر سپر ٹیکس کے تھریش ہولڈ کو 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اسی طرح آئندہ بجٹ سے 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کے لیے تھریش ہولڈ کو 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 1.5 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔




