پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی اور اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ٹورنامنٹ کے گیارہویں ایڈیشن میں کھلاڑیوں کے انتخاب کا طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا ہے۔
سیزن الیون میں پہلی بار ڈرافٹ سسٹم کے بجائے آکشن کے ذریعے کھلاڑیوں کی سلیکشن کی جائے گی، جس پر باضابطہ طور پر اتفاق ہو چکا ہے۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ورکنگ کمیٹی کے مطابق ٹورنامنٹ کے آئندہ سیزن میں یہ تبدیلی انتظامی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیموں کے ڈھانچے کو مزید متوازن بنانا اور کھلاڑیوں کو بہتر مالی مواقع فراہم کرنا ہے۔ ورکنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ آکشن سسٹم کے ذریعے فرنچائزز کو اپنی ضرورت کے مطابق کھلاڑی منتخب کرنے میں زیادہ شفافیت اور آزادی حاصل ہوگی۔
پی ایس ایل کی ورکنگ کمیٹی نے مزید واضح کیا ہے کہ آکشن سسٹم کے نفاذ کے ساتھ ہی مینٹورز، برانڈ ایمبیسڈر اور رائٹ ٹو میچ جیسے قوانین کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ان فیصلوں کا اطلاق سیزن الیون سے ہوگا اور تمام فرنچائزز ان نئی پالیسیوں کے تحت اپنی ٹیمیں تشکیل دیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کا پی ایس ایل کھلاڑیوں کے معاوضے بڑھانے کا مشورہ
ورکنگ کمیٹی کے مطابق لیگ میں شامل ہونے والی نئی دونوں ٹیموں کو آکشن سے قبل چار، چار کھلاڑی منتخب کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر فرنچائز کو ایک انٹرنیشنل کھلاڑی کو ڈائریکٹ سائن کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے، تاکہ ٹیموں کو بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی شامل کرنے میں سہولت مل سکے۔
اجلاس میں کھلاڑیوں کی ری ٹینشن سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ تاہم ورکنگ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ ان تمام فیصلوں کی حتمی منظوری چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی دیں گے۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کی نیلامی کی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے بھی بتایا گیا ہے کہ اس کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا گیارہواں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا۔ سیزن 11 کے تحت کچھ میچز اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں بھی کھیلے جائیں گے، جو پی ایس ایل کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔




