اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے کے زیادہ تر نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔۔
معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 172 ایف آئی آرز ختم کردیں، موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو ایک ماہ ہی ہوا ہے، موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کئی کابینہ اجلاس کیے اور نکات پر عملدرآمد کیا۔۔
کمیٹی کے اراکین کی جانب سے مذاکرات میں عدم شرکت افسوس ناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر وزیر خزانہ آزاد کشمیر چوہدری قاسم مجید،وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی ،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان، سیکرٹری امور کشمیر ظفر حسن اور ایڈیشنل سیکرٹری کامران رحمان خان موجود تھے۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آج ہماری پریس کانفرنس عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے مذاکرات کے بارے میں ہے
عوامی ایکشن کمیٹی اور ہمارے درمیان 38 نکات پر اتفاق ہوا تھا،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو آج مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:گلوبل لیڈرشپ سمٹ: سید افتخار کاظمی کی عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر پر بڑی آواز بلند
آج کا اجلاس پہلے سے طے شدہ تھا،ہم انتظار کرتے رہے لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم نے ہائی پاور کمیٹی بنائی تھی،عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔۔
اس سے قبل کمیٹی کے کافی اجلاس ہوئے،ہم نے وقتاً فوقتاً اجلاس کیے اور معاہدے پر پیشرفت کا جائزہ لیا،ہمارے معاہدے پر عملدرآمد میں کچھ تاخیر ہوئی
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم کے دور میں معاہدے پر عملدرآمد میں تاخیر ہوئی،اسی لئے ہم نے آزاد کشمیر میں تبدیلی کا سوچا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو ایک ماہ ہی ہوا ہے،موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کئی کابینہ اجلاس کیے اور نکات پر عملدرآمد کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف خود بھی آزادکشمیر گئے اور کشمیریوں کو یقین دہانی کروائی۔انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 172 ایف آئی آرز ختم کردیں۔۔
صرف سنگین نوعیت کی 15 ایف آئی آرز باقی رہ گئی ہیں،نئی ایف آئی آرز سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ مان لیا گیا،ایکشن کمیٹی کے ساتھ مطالبے کے مطابق وزراء اور سیکرٹریز کی تعداد 20 کردی گئی۔۔
معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران معطل کیے گئے ملازمین بحال کردیئے گئے،لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے مطالبے پر کام جاری ہے۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ معاہدے کے عین مطابق معاوضہ جات کی ادائیگی کردی گئی ،پراپرٹی کے ٹرانسفر سے متعلق آرڈیننس صدر کو بھجوا دیا گیا ہے۔۔
یو ایس ایف کے سی ای او اور بورڈ ممبران کی تقرری کردی گئی ہے،آزاد کشمیر کابینہ نے دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دیدی گئی ہے۔۔
میڈیکل کالجز میں اوپن میرٹ کی پالیسی پر اس سال پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے،واٹر سپلائی سکیموں کے معاہدوں پر عملدرآمد ہورہا ہے۔
قبل ازیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا تھا اس کی عملدرآمد کے متعلق آج اجلاس ہوا ہے،یہ ہماری جوائنٹ میٹنگ تھی،ایکشن کمیٹی کو آج کی عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس کی تاریخ ہم نےمظفرآباد میں دیا تھا،جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا انتظار کیا وہ لوگ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
امیر مقام نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر اور دوستوں کی طویل مشاورت کے بعد ہم نے معاہدہ کیا تھا،کشمیر کے اندر ڈویلپمنٹ اور فلاح کیلئے ہم سب کی کوشش ہوتی ہے۔
31 دسمبر کو ہم نے اسلام آباد میں میٹنگ بھی کی، معاہدہ ہم نے کیا تھا اس کے عملدرآمد پر زیادہ وقت ہوگیا،ہم یہ چاہتے ہیں کہ تبدیلی آنی چاہئے اور بہتری آنی چاہیے۔۔
نئی حکومت آزاد کشمیر میں بنے ایک مہینہ ہو گیا،ہمارے ایکشن کمیٹی کے مابین معاہدے کو وزیر اعظم خود مانیٹر کرتے رہے ۔۔
موجود آزاد کشمیر حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا،معاہدے کے مطابق ہوم ڈیپارٹمنٹ کے متلعق 177 ایف آئی آر کو ختم کر دیا گیا۔۔
پندرہ ایف آئی آر ز باقی ہیں جو کہ قتل کی ہیں ، قیدیوں کو ریلیز کر دیا گیا، آزاد کشمیر حکومت نے کابینہ سے اجازت لے کر جوڈیشنل کمیشن بنانے کا عملدرآمد کر دیا۔۔
ایکشن کمیٹی کے معاہدے کے مطابق کابینہ کے سائز کو 20 کی تعداد سے زیادہ نہ رکھنے والی ڈیمانڈ کر دیا گیا ہے، معاہدے کے مطابق ڈیپارٹمنٹ کو ضم کرتے ہوئےکیس کر دیا ہے۔
لوکل گورنمنٹ کے متعلق سیگریکیشن اور سکیموں کے متعلق کام جاری ہے مظفرآباد کام شروع ہو چکا ہے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے متعلق بھی ڈیکانڈ پور ی کر دی ہے۔
معاہدے کے مطابق آزاد جموں کشمیر بینک کے متعلق مطالبہ بھی پورا ہو گیا،معاہدے کے مطابق زخمیوں اور شہداء کو چیک دی دئیے گئے۔
معاہدے کے مطابق منگلا ڈیم کے متعلق معاوضہ جات پر پر قاسم مجید اپنی وزرات میں کام کر رہے ہیں، معاہدے میں شامل پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکس کا مطالبہ بھی ایک دو روز میں ہو جائے گا۔۔
معاہدے کے مطابق سیلولر انٹرنیٹ سروسز ، یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو اشتیاق احمد تقرری کر دی گئی ہے،تعلیمی بورڈ کے متعلق مطالبہ بھی منظور کر لیا گیا ہے ۔۔
وفاقی حکومت کے ساتھ دستخط بھی ہوگئے ہیں،اوپن میرٹ کے متعلق ایکشن کمیٹی کے مطالبے کوبھی منظور کر لیا گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق سٹوڈنٹ یونین کو بحال کر دیا گیا ہے۔۔
ہیلتھ کارڈ کا کو 20 جنوری تک لانچ بھی کر دیا جائے گا۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ معاہدے کے مطابق سٹوڈنٹ یونین کو بحال کر دیا گیا ہے، ہیلتھ کارڈ کو 20 جنوری تک لانچ بھی کر دیا جائے گا۔۔
احتجاج کے دوران خابحق ہونیوالوں کے ورثاء کوملازمتیں دے دی گئی ہیں،بجلی کے میٹرز کیلئے ای ٹینڈرنگ کا مطالبہ مان لیا گیا،نیب کے قانون میں تبدیلی سے متعلق آرڈیننس جلد جاری ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی کی نشستوں سے متعلق لیگل کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا تھا،وفاقی حکومت نے آزادکشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے ممبران پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،ایئرپورٹ سے متعلق سول ایوی ایشن نے فیزیبلٹی تیار کرکے محکمے کو بھجوا دی۔




