وادی لیپہ(کشمیر ڈیجیٹل)قدیم زمانوں میں، جب پلاسٹک اور چمڑے کے جوتوں کا وجود نہ تھا تب لوگ پولوں کا استعمال کرتے تھے
وادی لیپہ کی ایک خاموش مگر عظیم تاریخ، رسی کے جوتے یعنی پولاں۔
یہ وہ جوتے تھے جو فیکٹریوں میں نہیں بلکہ گھروں کے صحن میں ہاتھوں سے بنتے تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلی ہٹیاں بالا:سلنڈر پھٹنے سے خاتون زخمی، گھر کا بڑا حصہ جل کر خاکستر
انہی پولاں میں ہمارے اباؤ اجداد نے برفیلے پہاڑوں، جنگلوں اور پتھریلے راستوں پر میلوں کا سفر طے کیا۔
پولاں صرف جوتے نہیں بلکہ صبر، محنت، قربانی اور خودداری کی علامت تھے۔

یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آج کی آسان زندگی کے پیچھے کن لوگوں کی سخت محنت اور جدوجہد شامل ہے۔
وادی لیپہ کی ثقافت، تاریخ اور جدوجہد پر مبنی ایک سوچ میں ڈال دینے والی رپورٹ سامنے آگئی۔
یاد رہے کہ قدیم زمانوں میں، جب پلاسٹک اور چمڑے کے جوتوں کا وجود نہ تھا،
ماضی میں لوگوں کی بڑی تعداد چاول کی فصل سے حاصل ہونے والی فالتو گھاس سے بڑی مہارت اور کاریگری کے ساتھ جوتے تیار کرتے تھے، جنہیں “پولاں” کہا جاتا تھا۔
یہ جوتے نہ صرف روزمرہ کے استعمال کا ذریعہ تھے بلکہ ان کی سادگی اور پائیداری علاقائی ثقافت کی عکاسی بھی کرتی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ، جدت نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کو بدل دیا، وہیں یہ پولاں اب ہمارے ثقافتی ورثے کا ایک انمول حصہ بن گئے ہیں۔
آج یہ نہ صرف ماضی کی دستکاری کی یاد دلاتے ہیں بلکہ ہماری روایات اور فنون لطیفہ کے تحفظ کی علامت بھی ہیں۔
ان کی تیاری کا فن اور ان کا تاریخی پس منظر ہماری ثقافتی شناخت کو اجاگر کرتا ہے، جو نئی نسل کو اپنے ماضی سے جوڑنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔




