اسلام آباد ، نیلم ( کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت ایک بار پھر انتظامی نااہلی، سیاسی مداخلت اور تعلیم جیسے حساس شعبے کو یرغمال بنانے کے الزامات کی زد میں آ گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے موسٹ سینئر وزیر میاں عبد الوحید پر سنگین الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے خالصتاً سیاسی بنیادوں پر ضلع نیلم کے ڈسٹرکٹ ایلیمنٹری بورڈ میں عین امتحانات سے چند روز قبل بڑے پیمانے پر تبادلے کر کے ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل خطرے سے دوچار۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت نے امتحانات کے آغاز سے محض بیس دن قبل ڈسٹرکٹ ایلیمنٹری بورڈ نیلم کے چیئرمین، سیکریٹری اور کنٹرولر کو اچانک تبدیل کرتے ہوئے اپنے من پسند افسران تعینات کر دیئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سابق سیکرٹری اطلاعات عنبرین جان نئی چیئرپرسن پیمرا منتخب
ایسے نازک مرحلے پر، جب امتحانی مواد کی تیاری، ترسیل اور سیکیورٹی کے معاملات آخری مراحل میں ہوتے ہیں، کنٹرولنگ ٹیم کی تبدیلی نہ صرف امتحانات کے انعقاد کو مشکوک بنا رہی ہے بلکہ امتحانی راز داری (سکریسی) پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔
نو تعینات چیئرمین پر الزام ہے کہ وہ بوائز ہائی اسکول پوٹھی بالا راولاکوٹ کے بچوں کا تقریباً 27 ہزار روپے کا نادہندہ ہے۔
ایسے متنازع پس منظر کے حامل فرد کو ایک حساس تعلیمی ادارے کی ذمہ داری سونپنا خود حکومت کی نیت اور ترجیحات پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
مقامی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان حالات میں امتحانی پرچے ارزاں نرخوں پر مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتے ہیں جبکہ پوزیشن ہولڈرز کی ’’بکنگ‘‘ بھی پہلے سے طے کیے جانے کا امکان رد نہیں کیا جا رہا۔
زرائع کے مطابق بورڈ میں ہونے والی تمام نئی تعیناتیاں لوئر نیلم سے کی گئی ہیں، جس پر بالائی نیلم کے پیپلز پارٹی کارکنان شدید اضطراب اور مایوسی کا شکار ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں بالائی نیلم کے لیے الگ ایلیمنٹری بورڈ کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے، جو خطے میں ایک نئے انتظامی اور سیاسی بحران کو جنم دے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:موسٹ سینئر پولیس افسرمرزا ارشاد ڈی آئی جی جیل خانہ جات تعینات،نوٹیفکیشن جاری
اس تمام صورتحال پر مسلم لیگ (ن) بالائی نیلم کے حلقہ صدر خواجہ محمد اکبر ایڈووکیٹ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار کے نشے میں تعلیم دشمن فیصلے کر کے نیلم کے بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امتحانات سے عین قبل بورڈ انتظامیہ کی تبدیلی ایک سوچا سمجھا اقدام ہے، جس کا مقصد شفافیت نہیں بلکہ سیاسی مفادات کا تحفظ ہے۔
خواجہ محمد اکبر ایڈووکیٹ نے واضح کیا کہ بالائی نیلم کو مسلسل نظرانداز کر کے لوئر نیلم کو نوازنا کھلی ناانصافی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنی سمت کا ازسرنو تعین کریں اور اگر واقعی وہ اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کا بدلہ چاہتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے قافلے میں شامل ہو کر عوامی مفاد اور تعلیمی انصاف کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔
عوامی اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ان فیصلوں پر نظرثانی نہ کی تو نہ صرف امتحانی نظام کی ساکھ متاثر ہو گی بلکہ پیپلز پارٹی کو نیلم میں اس کے سیاسی نتائج بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔




