یمن کے ساتھ کشیدگی ،یواے ای کا اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان

دبئی (کشمیر ڈیجیٹل)متحدہ عرب امارات نے یمن میں تعینات اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلانے کا اعلان کردیا۔

یہ پیش رفت سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا پر فضائی حملے کے فوراً بعد ہوئی۔

سعودی عرب کے مطابق اس حملے میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک ہتھیاروں پر مشتمل تھی اور یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی۔

یہ کارروائی ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سٹیٹ بینک کا یکم جنوری2026 کو ملک بھر میں بینک بند رکھنے کا اعلان

ایک وقت میں خطے کے دو مضبوط سیکیورٹی ستون سمجھے جانے والے سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات حالیہ برسوں میں تیزی سے مختلف ہوتے چلے گئے ہیں۔ اختلافات کی وجوہات میں تیل کی پیداوار کے کوٹے، علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔

سعودی عرب نے منگل کے روز اپنی قومی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ایسے عسکری اقدامات پر اکسایا جو سعودی سرحدوں تک جا پہنچے۔

یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران ریاض کی جانب سے اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی حکومت کا کشمیری لیڈرشپ پر دبائو بڑھانے کا نیا حربہ : میرواعظ اور ڈاکٹر فائی نشانہ: محمد شہباز

یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور بعد ازاں یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔

انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کے ذریعے یمن میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

دوسری جانب یو اے ای نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کھیپ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ہتھیار شامل نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کیلئے تھی۔

متحدہ عرب امارات نے زور دیا کہ حالیہ صورتحال کو ذمہ داری سے اور باہمی رابطے کے تحت حل کیا جانا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔

Scroll to Top