کوئٹہ، صوبائی دارالحکومت بلوچستان میں 20کلو آٹے کے تھیلے کے نرخوں میں اضافے کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔
شہر کے مختلف علاقوں سے دکا ن داروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران آٹے کی قیمت میں فی کلو 20 روپے کا اضافہ ہوا ہے ، جس کے نتیجے میں 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 2500 روپے سے تجاو زکر گئی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چینی، گھی، کوکنگ آئل، آٹا اور ٹماٹر، پیاز مہنگے ،ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری
دکان داروں نے بتایا ہے کہ ہمیں فلور ملوں سے آٹا مہنگے داموں مل رہا ہے ، جس کی وجہ سے عام صارفین کو بھاری مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
فلورملز مالکان نے خبردار کیا ہے کہ گندم کی فراہمی میں رکاوٹ اس بحران کی بنیادی وجہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ سے گندم کی ترسیل پر پابندی عائد ہے اور محکمہ خوراک کے پاس گندم کا کوئی خاطر خواہ ذخیرہ موجود نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں سونا مزید مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 70 ہزار سے تجاوز
فلور ملز کے مالکان نے کہا کہ اگر گندم کی ترسیل پر پابندی فوری طور پر ختم نہ کی گئی تو آٹے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور ملک میں آٹا بحران سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف شہریوں کی زندگی پر اثر ڈال رہا ہے بلکہ اقتصادی سطح پر بھی مہنگائی میں اضافہ کر رہا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سولر کی قیمت میں اچانک حیران کن کمی،عام صارف اب بھی محروم
شہری حکومت سے فوری اقدامات کے متمنی ہیں تاکہ گندم کی ترسیل بحال ہو اورآٹے کی قیمتیں معمول کے مطابق کنٹرول میں لائی جا سکیں ۔




