مظفرآباد/اسلام آباد:فارورڈکہوٹہ سے ریسکیو کی گئی نایاب جنگلی بکری محکمہ وائلڈ لائف کی غفلت کاشکار ہو گئی، پٹہکہ چڑیا گھر میں مناسب خوراک نہ ملنے پردم توڑ گئی ۔
تفصیلات کے مطابق ستمبر 2025 میں بکروالوں نے بکروالوں سے نایاب جنگلی بکری ( رائیں ) کا بچہ ریسکیو کرکے پٹہکہ چڑیا گھر منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ وائلڈ لائف کی غفلت کا شکار ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وائلڈ لائف اہلکار سید امتیاز شیرازی کی کامیاب کارروائی میں ریسکیو بکری پٹہکہ چڑیا گھر منتقل
ذرائع کے مطابق پٹہکہ چڑیا گھر میں غیر صحت بخش ماحول، ناقص انتظامات، تربیت یافتہ عملے کی کمی، ناکافی طبی نگرانی اور مناسب خوراک کی عدم فراہمی نے اس نایاب جنگلی جانور کی جان لے لی ہے۔
ذرائع کے مطابق نایاب جنگلی بکری( رائیں) کو نہ تو قدرتی ماحول میسر تھا اور نہ ہی اس کی عمر اور ضروریات کے مطابق دیکھ بھال کا کوئی مؤثر بندوبست کیا گیاتھا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نایاب جانور کی ہلاکت کی شفاف تحقیقات کی جائیں ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹہکہ چڑیا گھر سمیت تمام وائلڈ لائف مراکز میں فوری طور پر معیاری دیکھ بھال طبی سہولیات اور پیشہ ورانہ انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی لیپہ میں جنگلی جانوروں کا بڑھتا خطرہ، عوام مشکلات کا شکار
یا درہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی پٹہکہ چڑیا گھر اور دیگر مقامات پر متعدد پرندے اور جنگلی جانور محکمہ وائلڈ لائف کی بدانتظامی اور غفلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں مگر نہ تو ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اور نہ ہی اصلاحی اقدامات کئے گئے ہیں۔
آزادکشمیر میں جنگل کے کٹائو، آگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنگلی حیات خطرے سے دوچار ہیں ۔




