تھائی لینڈ اورکمبوڈیا کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ کمبوڈین فوج سے جھڑپوں میں ایک تھائی فوجی ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ترجمان تھائی فوج کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا نے نئے مقامات پر جھڑپوں کو بڑھا دیا ہے۔ تھائی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمبوڈین ملٹری نے ہتھیار اور فوجیوں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے
ترجمان تھائی فوج کا کہنا ہے کہ ہماری فوج کی جانب سے بھی کمبوڈین حملے کا بھرپور جواب دیا گیا۔ دوسری جانب کمبوڈیا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے تھائی فوج کی جانب سے کمبوڈیا پر حملے کیے گئے تاہم کمبوڈیا کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار سہیل یوسف ڈی ایس پی کوٹلی،ڈی ایس پی عبدالقدوس سدھنوتی تعینات
یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں بھی تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے
بعدازاں اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملائیشیا میں ہونے والی آسیان سمٹ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کروایا تھا جس پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باقاعدہ دستخط بھی کیے تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ای سی سی اجلاس، پٹرولیم قیمتیں فی لیٹر 2 روپے 40 پیسے اضافے کا امکان
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہیں۔ تھائی فوج کے ترجمان کے مطابق کمبوڈیا نے نئے مقامات پر فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی بڑھا دی ہے
جس کے نتیجے میں ایک تھائی فوجی ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔ تھائی فوج نے بھی کمبوڈین حملوں کا بھرپور جواب دیا۔
دوسری جانب کمبوڈیا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تھائی فوج کی جانب سے حملے کیے گئے، تاہم کمبوڈیا کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ اس سال جولائی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بعد ازاں اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر آسیا کے ممالک کی سمٹ میں دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کروایا گیا تھا
لیکن دو ہفتے بعد تھائی لینڈ نے کمبوڈیا پر حملے کے الزام کے بعد معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
کمبوڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔




