دبئی ہوٹل میں رہائش پذیر فیملی کا 2 سال بعد بل ادا کرنے سے انکار

دبئی (کشمیر ڈیجیٹل) دبئی ہوٹل میں 2 سال تک رہنے والی فیملی نے بل ادا کرنے سے انکار کر دیا۔

دبئی کی سول عدالت نے ایک عرب خاندان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہوٹل کے ایک کمرہ کو خالی کر دے جس پر انہوں نے دو سال سے قبضہ کر رکھا تھا۔

اس فیملی نے قیام کے مکمل اخراجات کا تصفیہ کیے بغیر ہوٹل میں دو سال گزارے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھورکا عباسپور کا طوفانی دورہ،بڑے عوامی منصوبوں کا اعلان

عدالت نے خاندان کو یکم اکتوبر تک واجبات اور فیس کی مد میں 155,000 درہم ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ آزادکشمیر کا تاریخی فیصلہ، عارضی آسامیاں ،اضافی چارج ختم، مستقل کرنے کا حکم

اس کے علاوہ وہ خالی ہونے تک یومیہ رہائش کے اخراجات اور مکمل ادائیگی تک 5 فیصد قانونی سود ادا کرے گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شاہ غلام قادر کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے وزیراعظم کو خط ارسال

الخلیج اخبار کے مطابق یہ تنازعہ ایک ہوٹل اور چھ افراد پر مشتمل خاندان ایک جوڑے اور ان کے چار بچوں کے درمیان پیدا ہوا جو 2023 سے ہوٹل کے ایک کمرے میں رہ رہے تھے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امیر مقام نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تحفظات سنے ، فوری عملدرآمد کی یقین دہانی

اگرچہ خاندان نے کل بل کا کچھ حصہ ادا کیا، باقی رقم درہم 275,000 سے تجاوز کر گئی۔

ہوٹل نے بالآخر ایک مقدمہ دائر کیا جس میں بے دخلی اور جمع شدہ بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔

Scroll to Top